جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

امن معاہدہ،پاکستان نے اپنا کام کردکھایا،اب افغانستان کی باری، پاکستان کے مطالبے نے اشرف غنی کو نئے امتحان میں ڈال دیا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امن معاہدے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا کردیا اور اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے۔ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاہدے کے بعد سب کا خیال تھا راستہ آسان نہیں دشواریاں آئیں گی تاہم امن کے راستے میں آنے والی دشواریوں کا حل نکالنا ہوگا۔

اس وقت افغان قیادت پر آزمائش ہے، دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے لیے پاکستان نے جو کردار ادا کرنا تھا کردیا، اب اگلا قدم اٹھانا افغانوں کا کام ہے، اگلا قدم انٹرا افغان مذاکرات ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ قیدیوں کا تبادلہ امن معاہدے میں موجود ہے، رہائی یکطرفہ نہیں ہوگی، دونوں طرف سے قیدی رہا ہوں گے، افغان قیادت کو لچک دکھانی پڑے گی کیونکہ ہٹ دھرمی سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف معاہدہ کافی نہیں ہے، رویے بھی درست کرنے پڑتے ہیں، ماحول خراب کرنے والے ہمیشہ تھے اور رہیں گے، سیاسی قیادت کا کام ہے کہ ماحول خراب کرنے والوں کو ناکام بنائیں۔خیال رہے کہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…