جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت کا دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کا فیصلہ

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

راولپنڈی(آن لائن)صوبے میں اراضی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے بجائے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب حکومت نے اصلاحات کے نام پر لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹس میں دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کا آغاز کردیا۔اس ضمن میں پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی (پی ایل آر اے) کے ایک سینئر عہدیدارنے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب بورڈ آف ریونیو نے ضلعی کمشنرز کو ہر ضلع میں ریونیو کے 2 حلقے مختص کرنے کا کہا ہے ۔

جسے قانون گوئی کہا جاتا ہے اور سے تحصیل دار اور پٹواری کنٹرول کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق راولپنڈی میں پنجاب بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ضلعی کمشنرز کو جنوری کے اوآخر میں ارسال کردہ خط کے جواب میں مندرا اور چکری علاقوں کا انتخاب کیا گیا، ان 2 حلقوں میں آزمائشی بنیادوں پر اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ اراضی کے ریکارڈ کا مینوئل طریقہ کار پورے قانونی نظام پر بوجھ بنا ہوا ہے کیوں کہ پٹواری اور فیلڈ ریونیو عہدیدار اس میں تبدیلی کرسکتے ہیں، تاہم کمپیوٹرائزڈ نظام نے اسے ختم کردیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کی بیوروکریسی حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ مینوئل نظام کمپوٹرائزڈ نظام سے بہتر ہے۔عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس طرح تبدیل اور تصدیق کرنے کا اختیار عرضی ریکارڈ سینڑ سے پٹواریوں، ریونیو فیلڈ افسران کو منتقل ہوجائے گا، اس نظام کو مینوئلی سنبھالنے سے سماجی ابتری پیدا ہوگی اور ریکارڈ اور تبدیلی کے مینوئل طریقہ کار کے ذریعے بہت سے چھوٹے کسان خاندانوں کو نظام سے باہر نکال دیا جائے گا۔اس حوالے سے ایک سینئر ضلعی افسر کا کہنا تھا کہ اس طرح ایک متوازی نظام قائم ہوجائے گا جس میں زیادہ تر اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ اور ریونیو کے کچھ حلقے پرانے پٹواری نظام پر چل رہے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے اسپانسر کردہ منصوبے کے تحت پنجاب میں اراضی کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے پر کام کیا گیا تھا، اربوں روپے مالیت کے اس منصوبے کا نام لینڈ ریکارڈ منیجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم تھا جس کا مقصد صدیوں پرانے پٹواری نظام کو ختم کرنا تھا۔عہدیدار نے کہا کہ اس شفافیت سے ایک مثالی تبدیلی آئی کیوں کہ اراضی کے ریکارڈز تک ہر شخص کو بغیر مشقت کے رسائی حاصل ہوگئی۔اس منصوبے کی کامیابی کے باعث اسے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ایکٹ 2017 کے تحت قانون میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

پی ایل آر اے کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کا 90 فیصد زمینی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے، اس سلسلے میں زمین مالکان کو خدمات فراہم کرنے کے لیے 152 ریکارڈ سینٹر پنجاب بھر میں کام کررہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اراضی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے سے صوبے میں جائیداد سے متعلق تنازعات اور قانونی چارہ جوئی میں کمی آئی کیوں کہ ریکارڈ بآسانی قابل رسائی بن گیا تھا اور اس میں چھڑ چھاڑ بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔

عہدیدار کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے ممبر نے اس سلسلے میں 15 جنوری کو پنجاب کے تمام کمشنرز کو خط لکھا اور اس بات کا فیصلہ کیا کہ کمپیوٹرائزڈ نظام کو سابقہ نظام سے تبدیل کردیا جائے گا۔پی ایل آر اے کے عہدیدار کے مطابق پٹواری نظام کو دوبار متعارف کروانے سے 115 نئے ریکارڈ سینٹرز سے 589 اہلکاروں کی نشستیں واپس لی جاسکتی ہیں۔پی ایل آر اے کے عہدیدار نے کہا کہ ریکارڈ سینٹر کے اہلکاروں کا کردار صرف ڈیٹا انٹری تک محدود ہوجائے گا۔

دوسری جانب وزیر قانون پنجاب راجا بشارت نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پٹواری نظام کی تجدید کی تجویز دی گئی تھی تاہم حکومت نے اب تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لینڈ ریونیو ریکارڈز کے 2 متوازی نظام ایک ساتھ چلانا ممکن نہیں، انہوں نے زمینی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے منصوبے کی تعریف کی اور کہا کہ اسے ہر جگہ مکمل کیا جانا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…