چین میں موجود 4پاکستانی طالب علموں میں کرونا وائرس کی تصدیق

  بدھ‬‮ 29 جنوری‬‮ 2020  |  13:11

اسلام آباد (این این آئی) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین میں موجود چار پاکستانی طالب علموں میں کرونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ چاروں طالبعلموں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری ہماری ہے ، اس طرح خیال رکھیں گے جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ سفارت خانے کا عملہ دن رات پاکستان کی ساری کمیونٹی سے رابطے میں ہیں ،چاروں طالب علموں کی صحت بہتر ہورہی ہے، امید اور دعا ہے مکمل صحت یاب ہو جائینگے ،میڈیا معاملے کو زیادہ نہ پھیلائے ، پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی مریض نہیں ،ابھی


تک دنیا میں اس وائرس کیلئے کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ،دنیا میں ویکسین کی تیاری کیلئے تیزی سے ریسرچ ہورہی ہے ،چین سے آنے والے مسافروں کی تین طریقے سے اسکریننگ کی جا رہی ہے ،ایک فارم دیا جاتا ہے ،ٹمپریچر ریکارڈ کیا جائیگا ،تجزیہ کیا جائیگا،اگر ضرورت پڑی تو آئیسولیٹ بھی کیا جائے گا،چین نے پاکستان کی درخواست پر میڈیکل کیٹس فراہم کی ہیں کل  جمعرات کو پہنچ جائیں گی،تکنیکی معلومات کیلئے قومی ادارہ صحت کا ایک ترجمان مقرر کر دیا ہے،سوشل میڈیا ملنے والی معلومات کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ بدھ کو یہاں پی آئی ڈی میں معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر کرونا وائرس کی وجہ سے تشویش ہے اسی سلسلے میں پریس کانفرنس کررہا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس وائرل انفیکشن ہے ،یہ وائرس نیا دریافت ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نوول کرونا وائرس پانچویں قسم ہے جو انسانی جسم کو متاثر کرتاہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماری سینے میں انفیکشن ہے ،اس کی علامات مخصوص نہیں ہے،اس بیماری کے وائرس کو لیبارٹری میں جانچ کیے بغیر بتایا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ وائرس سے کھانسی سانس لینے میں مشکل ہو جاتی ہے ،یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی ،چین میں دسمبر 2019 میں اس کے مریض آنا شروع ہوئے ،چار جنوری کو اس کی تشخیص ہوئی اور اسے نیا نام دیا گیا ،آس پاس کے لوگوں میں منتقل ہونے کے خدشات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں پر ریسرچ ہوئی ہے ان میں سے تین فیصد لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں،بیماری میں شدت اور یہ پھیلتی بھی ہے لیکن اموات کی شرح کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سات جنوری2020 کو چین میں اس وائرس کی تشخیص ہو گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ چین میں دسمبر 2019 میں مریض آنا شروع ہو گئے تھے ،اس وقت اس مرض کی تصدیق نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہاکہ اب تک 6052 افراد میں اس وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ اس میں ننانوے فیصد مریض چین میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ چین کے علاوہ کہیں اس بیماری سے اموات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ 14 ممالک میں اس وائرس کے مریضوں میں تصدیق ہو چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک بھی مریض نہیں ہے،جن چار مریضوں کو داخل کیا گیا ان کی تشخیص ہوئی ہے ان میں کسی کو کرونا وائرس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چار پاکستانی طالب علم چین میں ہیں جن میں کرونا وائرس پایا گیا ہے ،ان طالب علموں کی فیملی کو یقین دلاتے ہیں ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کی زمہ داری ہمارے اوپر ہے۔ ان کا اس طرح خیال رکھیں گے جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فارن آفس کا چین میں پاکستان ایمبیسی سے مستقل رابطہ ہے ،سفارت خانے کا عملہ دن رات پاکستان کی ساری کمیونٹی سے رابطے میں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چاروں طالب علموں کی صحت بہتر ہورہی ہے،امید اور دعا ہے کہ یہ طالبعلم مکمل صحت یاب ہوائیں گے ،ابھی ان طالب علموں کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اس معاملے کو زیادہ نہ پھیلائیں ۔ اگر پتہ لگ بھی جائے تو ان کی شناخت میڈیا پر دکھائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ چاروں طالب علموں کی صحت بہتر ہورہی ہے،امید اور دعا ہے کہ یہ طالبعلمی مکمل صحت یاب ہوائیں گے ،ابھی ان طالب علموں کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اکیس ،پچیس اور ستائس جنوری کو ایڈوائزری جاری کی تھی ،ایمرجنسی سینٹر وزارت صحت میں قائم کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ این آئی ایچ کی ویب سائٹ پر تمام معلومات موجود ہیں ،آئندہ چند دنوں میں ہیلپ لائن بھی قائم کی جارہی ہے ۔ چاروں وزرائے اعلیٰ وزارتیں این ڈی ایم اے آرمی سمیت تمام کو خطوط کے ذریعے آگاہ کردیا گیا ہے ،ناول کرونا وائرس ایمرجنسی کورکمیٹی قائم کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کمیٹی روانہ بیٹھ کر فیصلے کرتی ہے،قومی سطح پر ہیلپ لائن قائم کر ہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام چیفس منسٹرز تمام وزارتیں این ڈی ایم اے اور تمام صوبوں کے افسران کو اس حوالے سے خطوط لکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چین سے آنے والے مسافروں کی تین طریقے سے اسکریننگ کی جا رہی ہے ،ایک فارم دیا جاتا ہے ٹمپریچر ریکارڈ کیا جائے گا تجزیہ کیا جائے گا ۔ اگر ضرورت پڑی تو آئیسولیٹ بھی کیا جائے گا ،ہم نے پروٹوکول اور ایس او پیس کو فائنل کر رہے ہیں،تمام مسافروں کو ایک ضابطے کے تحت جانچا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ دس لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی ہیں،یہ سارے اقدامات ہمیں اعتماد دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات ہمسایہ ملک پھیلنے والی بیماری کو ملک میں روکا جا سکے گا ۔انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان اور وزارت صحت اپنی ذمہ داری کا ادراک رکھتی ہے ،گزشتہ روز کابینہ میں وزیراعظم نے فنڈز سے متعلق بھی ہدایت بھی دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر شخص کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ خوف کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا ملنے والی معلومات کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو زکام کی شکایت ہے،،ہر شخص کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے کرونا کا حملہ ہوا ہے،،احتیاط جس طرح سے دوسری بیماریوں میں ہوتی ہے اسی طرح اس کے کیے بچاؤ کی معمول کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین سے اگر کوئی سفر کر کے آیا ہے اس سے خصوصی احتیاط کہ ضرورت ہے، ،چین سے آنے والوں میں علامتیں ایسی ہیں تو فوری طور پر اطلاع دینا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ ابھی تک دنیا میں اس وائرس کیلئے کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ،دنیا میں ویکسین کی تیاری کیلئے تیزی سے ریسرچ ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چین نے پاکستان کی درخواست پر میڈیکل کیٹس فراہم کی ہیںکل جمعرات کو پہنچ جائیں گی۔ظفر مرزا نے کہاکہ تکنیکی معلومات کے لیے قومی ادارہ صحت کا ایک ترجمان مقرر کر دیا گیا ہے،قومی ادارہ صحت کے پاس صلاحیت ہے کہ تمام بیماریوں کی تشخیص ہو سکے،کم شام تک اس کی تشخیص کے لیے کٹس پاکستان پہنچ جائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ اس بیماری کی نہ کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی خاص علاج ہے،دنیا بھر میں اس کی ویکسین بنانے پر تحقیق ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سستا بارڈر کھولنے اور نگرانی کے معاملے پر چین سے بات چیت ہو رہی ہے،کوشش ہے اپریل تک اس بارڈر کو کھول دیا جائے،پمز میں آئندہ دو روز تک آئی سولیشن وارڈ تیار کر لیا جائیگا،اس وائرس کے علاج کیلئے ہسپتال نہیں بنائینگے نیٹ ورک تیار کیا جائیگا۔

موضوعات: