بھارت فروری کا مہینہ یاد رکھے اور بس۔۔۔! مودی سرکار اوربھارتی فوج اس کام سے فوری باز آجائے ورنہ نتائج کیسے سامنے آ سکتے ہیں؟ انتباہ جاری کر دیا گیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  12:55

واشنگٹن/اسلام آباد(آن لائن)وزیر خا رجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی فوج پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔واشنگٹن میں سینٹر برائے اسٹریٹجک اور انٹرنیشنل اسٹڈیز میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان امریکا تعلقات انتہائی اہم ہیں،پاکستان امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرانا چاہتا ہے، فریقین کشیدگی بڑھانے والا کوئی قدم نہ اٹھائیں، ترقی کے حصول کے لیے امن کے خواہاں ہیں، پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ


نہیں بنے گا، افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا آر ایس ایس بھارت کو ہندو ریاست بنا رہی ہے، مسئلہ کشمیر اب تک سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب ہے۔ادھر وزیر خارجہ نے نائب امریکی وزیر دفاع جان روڈ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے ایران، سعودی عرب دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹر لنزے گراہم سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ نے کانگریس اراکین سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان کی مسلسل کوششوں سے طالبان مذاکرات کی میز پر آگئے، امریکا کے ساتھ دوستی سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس موقع پر ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید بھی موجود تھے۔ علا وہ ازیں امریکی ٹی وی فاکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ تنازعہ پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف بھی تناؤ میں اضافہ نہیں چاہتے،انہیں اندازہ ہے کہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے کیا نتائج پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی لانا ہر ایک کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے تنازعہ سے تیل کی قیمتیوں میں خلل اور بین الاقوامی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائیوں کی وجہ سے بننے والے اس تناؤ کو ختم کرنےکے لیے اقدام اٹھانے ہوں گے۔یاد رہے گزشتہ روز امریکی سینٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کی قیادت سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن واستحکام اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک تنازعہ کشمیر، عالمی قوانین اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں ہو جاتا ہے۔انہوںنے مشرق وسطی میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہپاکستان امن کے ساتھ ہے اور ہم امن کے فروغ سمیت اس میں سہولت کاری کے لیے جوبھی ممکن ہوسکا وہ کریں گے۔ادھرامریکا کے دورے پر گئے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں امریکی نائب وزیرِ دفاع جان روڈ سے ملاقات کی ہے جس کے دوران پاک امریکا دفاع، تعاون اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جان روڈ نے دفاع سے متعلق تعاون کے بارے میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کوبریفنگ دی۔امریکی نائب وزیرِ دفاع نے پاکستان کی جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کی کوششوں کی تعریف کی۔اس موقع پر وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون دو طرفہ تعلقات کا اہم حصہ ہے۔وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں سے امریکی نائب وزیرِ دفاع کو آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کاعسکری تعلیم و تربیت پروگرام کی بحالی کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے، اس فیصلے سے دونوں ممالک میں عسکری تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔زیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستانی کمیونٹی سے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر اٹھایا ہے۔انہوں نے پاکستانی کمیونٹی کو بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مقبوضہ کشمیر کیصورتِ حال پر غور کی درخواست کی تھی۔شاہ محمود نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، بھارت نے 2019ء سیز فائر کی 3 ہزار خلاف ورزیاں کیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ثابت کر دیا کہ وہاں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، بھارت کا شہریت ترمیمی بل مسلمانوں سےامتیازی سلوک ہے۔وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کی تمام اقلیتوں نے شہریت ترمیمی بل کو مسترد کر دیا ہے، خدشہ ہے کہ بھارت پلوامہ طرز کی ایک اور جھوٹی کارروائی کر سکتا ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کمیونٹی کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال فروری میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا، ہم نے اپنے دفاع میں 2 بھارتی طیارے مار گرائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎