جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب اور ترکی ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کیلئے جنرل ضیا الحق کو کیا گارنٹی تحریری طور پر دینے کیلئے تیار تھے ؟حیرت انگیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)میں نے ان سے پوچھا ”یہ آپ نے کیا کیا؟“ وہ شرمندہ ہو کر بولے ”ہم بھٹو بنتے بنتے میاں نواز شریف بھی نہیں رہے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا مطلب“ وہ بولے ”ہم ذوالفقار علی بھٹو سے لاکھ اختلاف کریں لیکن وہ نظریاتی منافقت سے پاک تھے‘ وہ جو کہتے تھے

وہ کرتے بھی تھے‘ وہ اگر جمہوریت‘ آئین اور سویلین سپرمیسی کی بات کرتے تھے تو آپ کو ان کے ہر ایکشن میں یہ نظر بھی آتی تھیں‘ بھٹو نے ملک میں جمہوریت قائم کی‘ وہ اسے طلباء‘ بلدیاتی اداروں اور ٹریڈ یونینز تک لے کر گئے۔سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’قومی مفاد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔مزدور‘ کسان اور کلرک تینوں کو جمہوری حق دیا‘ ملک کا پہلا متفقہ آئین بھی ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا اور حمود الرحمن کمیشن ہو‘ بھارت کی قید سے 90 ہزار فوجیوں کی رہائی ہو یا پھر اپنی مرضی کے جنرلز کی بطور آرمی چیف تعیناتی ہو یہ سارے کام ذوالفقار علی بھٹو نے کیے اور ڈنکے کی چوٹ پر کیے“وہ رکے اور آہستہ سے بولے ” بھٹو نے قید بھی مردانہ وار برداشت کی‘ لیبیا‘ شام‘ سعودی عرب اور ترکی نے بھٹو کی گارنٹی دینے کی کوشش کی‘ یہ ممالک چاہتے تھے پاکستان بھٹو کو ان کے حوالے کر دے‘یہ جنرل ضیاءالحق کو دس سال کا تحریری معاہدہ دینے کے لیے بھی تیار تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے کسی قسم کے این آر او سے انکار کر دیا‘یہ پھانسی چڑھ گئے لیکن ہار نہیں مانی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…