“کیا ہوگیا، کونسا آسمان ٹوٹ پڑا ہے؟ مولانا فضل الرحمن کا دھرنے میں افغان طالبان کے جھنڈوں اور شرکاء کے ہاتھوں میں تلواروں پر حیران کن ردعمل

  اتوار‬‮ 3 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  13:40

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آئندہ دو روز میں مزید سخت فیصلے کر نے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت سے نجات تک ہم میدان میں رہیں گے،ڈی چوک جانا ایک تجویز ہے،مودی عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر بہت خوش ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے بھارتی میڈیا کوریج دے رہا ہے اب صرف بھارت ہی نہیں، بین الاقوامی میڈیا بھی کوریج دے رہا ہے، خان صاحب اب آپ کی رٹ ختم ہوگئی ہے،کرسی پر بیٹھنے سے کوئی حکمران نہیں بنتا،نکمے حکمران پاکستان کے لیے رسکبن


چکے ہیں،اپنے آپ کو وزیر اعظم کہتے ہو تو زبان بھی وزیر اعظم والی استعمال کرو،تمام سیاسی جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر متفق ہیں،آئندہ آنے والے دنوں میں حکومت بنائیں گے، اس ملک کو ترقی دلائیں گے اورمعیشت کو سنبھالیں گے۔ آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آزادی مارچ کے شرکاء نے سفر کی صعوبتیں برداشت کی،تمام شرکاء کی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جعلی حکومت نے کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں،ہر طرف کنٹینر لگائے گئے ہیں، حکومت کس راستے سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے،وزیراعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور بنی گالا کے راستے بند کر دئیے گئے ہیں، حکومت کہتی ہے ہم آئین اور قانون کے مطابق مذاکرات کرینگے،حکومت اپنی آئینی اور قانونی حیثیت سے متعلق تو وضاحت دے،رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا ہم سب اکٹھے ہیں،رہبر کمیٹی نے ڈی چوک جانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معاہدہ توڑ دیا گیا ہے،ہم ہیں کہ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہتے ہیں خواتین کی عزت نہیں کی،جتنی خواتین کو عزت ہم دیتے ہیں اتنی کسی کی طرف سے نہیں جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جتنی بھی خواتین اینکرز پرسن اور صحافی حضرات آئی ہیں ہم نے ان کو عزت دی ہے اور خود ان اینکرز اور صحافیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں پہلے والے دھرنوں سے زیادہ عزت ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے خواتین کو احترام دیا ہے اور انہوں نے اپنے فرائض انتہائی عزت و آبرو کے ساتھ سر انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے بھی عزت والے لوگ تھے دوسروں کو بھی عزت دینا جانتے ہیں اور خاتون کو بھی عزت دینا جانتے ہیں،کبھی کہا جاتا ہے آپ کی باتیں ایسی ہیں کہ ہندوستان کا میڈیا بہت چلا رہا ہے ہندوستان کا میڈیا نہیں چلا رہاہے بلکہ پوری دنیا کامیڈیا چلا رہا ہے،پوری دنیا کامیڈیا ہمارے آزادی مارچ کو دکھانے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا پاکستان کے آزادی مارچ کو کورکررہی ہے،صرف انڈیا کی بات مت کرو۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پھر کہتے ہیں مودی فضل الرحمن سے بڑا خوش ہے میں کہتا ہوں مودی کشمیر کو عمران سے چھینے میں کامیاب ہوگیا اس نے عمران خان کے ہوتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے، آپ کے ہوتے ہوئے جو رعایتیں مل رہی ہیں جس طرح وہ کشمیریوں کا خون پی رہاہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی کشمیر میں اپنی گرفت مضبوط کررہا ہے آپ سے بڑھ کر اس کیلئے اور کوئی خوش قسمت نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسلام آباد میں ایسی قوت آئی ہے اب اسرائیل کو تسلیم کر نے کی بات نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مسلم لیگ نواز نہیں ہے آپ کے ساتھ پیپلز پارٹی نہیں ہے آپ کے ساتھ فلاں جماعت نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ یہاں مسلم لیگ (ن)کی قیادت بھی آئی اور پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹوزر داری دو بار آئے ہیں یہاں پر تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں،ہم سب ایک ہیں اور حصول مقصد تک ایک ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں طلباء، انجینئرز، ڈاکٹرز، مزدور کسان موجود ہیں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والا شخص آزادی مارچ میں نمائندگی کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک انتہائی خوفناک دور سے گزر رہا ہے،ملک پر نااہل لوگ لوگ مسلط ہیں۔ پاکستان کیلئے رسک بن چکے ہیں، جب سے اقتدار میں آئے ہیں 70سالوں میں تمام حکومتوں کے قرضے اکٹھے کر لیں اور ان کی حکومت کا قرضہ اکٹھا کر لیں یہ سب سے آگے ہیں اور اتنے قرضے قوم پر لاد دیئے گئے ہیں،ڈالر کی قیمت 105سے 160تک چلی گئی ہے،مہنگائی عروج پر ہے،غریب انسان مہنگائی کے ہاتھوں کرب میں مبتلا ہے، غریب کی کمر ٹوٹ گئی ہے،بچوں کیلئے روز گار نہیں، راش لینے کے قابل نہیں رہا،جتنے جتنے دن اس حکومت کو مزید ملیں گے پاکستان پستی کی طرف جائیگا جب تک اس حکومت سے جان نہیں چھوٹے گی ہم میدان میں رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 126دن کادھرنا ہمارے لئے کوئی آئیڈل نہیں،ہم اس کے پیروکار نہیں،ہماری تاریخ تحریکوں سے بھری ہوئی ہے اور اتوار کو ہم نے فیصلے کر نے ہیں اورہم دیکھ رہے ہیں پرسوں اور آنے والے دنوں میں اس سے سخت فیصلہ کیا کر سکتے ہیں اس میدان سے دوسرے میدان کی طرف سے منتقل ہو جائیں اور اس حکومت کے خلاف تحریک تسلسل کے ساتھ جاری رہی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اللہ پر توکل رکھنا ہے،حالات کو بگاڑ نا نہیں چاہتے ہیں ہم کس طرح منظم رہے اور کس طرح امن وامان کو برقرار رکھا ہے۔ پورے ملک سے اسلام آباد تک پہنچنے والے قافلوں نے نظم و نسق کامظاہرہ کیا، ہمارے احتجاج سے کوئی مریض اور مسافر متاثر ہوا نہیں،کوئی راہ گیر متاثرنہیں ہوا ہے جس جذبے سے ہمارا استقبال کیا گیا اس کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کہاجاتا ہے آپ کے آزادی مارچ میں خواتین نہیں ہیں،ہر معاشرے کی اپنی روایات ہوتی ہیں، آج خواتین اپنے گھروں میں بیٹھ کر شریک ہیں،روزے رکھ رہی ہیں ٗ اذکار کررہی ہیں،اللہ کے سامنے گڑ گڑارہی ہیں، اس اجتماع کے ساتھ وابستہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری خواتین قومی اسمبلی میں ہیں۔ جے یو آئی کی نمائندگی کررہی ہیں،سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ہیں،غیر مسلم ہمارے نمائندے ہیں،ہندو وزیر رہے ہیں،سکھ ہمارے وزیر رہے ہیں، آج بھی ہمارے ممبر ہیں،ہمارے ہاں اقلیتوں کوجتنی جگہ دینے کی گنجائش ہے شاید یہ کسی کے پاس ہو،یہ تنگ نظری آپ کے پاس ہے،تم 1947میں گھوم رہے ہو،ہم آگے جا کر بات کر نے والے ہیں،ہم آج کے پاکستان کی بات کررہے ہیں،آج پاکستان کا وہ پاکستان ہے جس کا تصور قائد اعظم اور علامہ اقبال نے کیا، ہم اس کے مطابق پاکستان کا آئین بناناچاہتے ہیں،خارجہ پالیسی کواسی مطابق ستوار کر ناچاہتے ہیں۔ تمہاری حماقتوں کی وجہ سے پاکستان تنہائی کا شکار ہے، ہندوستان آپ کا دشن ہے، ہم افغانستان، ایران ناراض ہیں، چین آپ سے مایوس،کیا خارجہ پالیسی ہے،کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں مستقل دوست ہوا کر تے تھے،ہمیں ووٹ دیا کرتے تھے آج پہلی مرتبہ کشمیر پر ووٹ نہیں دیا ہے،ناکام خارزجہ پالیسی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہارہے، تم کس منہ سے کشمیریوں کی بات کرتے ہو،کشمیر کے نمائندے ہم ہیں، آپ کی حماقتوں کی وجہ سے آج پاکستان عالمی سطح پرتنہاہے۔فضل الرحمان نے کہاکہ وزیر اعظم ہو تو زبان بھی وزیر اعظم والی ہونی چاہیے۔ دعویٰ وزیر اعظم اورآپ کے پاس گالم گلوچ بریگیڈ ہے،ان کو گالیوں کے علاوہ جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت جلسے کیخلاف پروپیگنڈے کے لیے کچھ چیزیں ڈھونڈ رہی ہے، انتظامیہ یہاں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ہم انہیں موقع نہیں دے رہے،یہاں کسی نے طالبان جھنڈا لہرایا تو پروپیگنڈا شروع ہوگیا ہم سمجھتے ہیں یہ شرارت بھی تمہاری اپنی ہی ہے تاکہ پروپیگنڈا کی کوئی چیز مل جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ طالبان پاکستان میں آئے تو سفارتی پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور اسی پروٹوکول کے ساتھ امریکہ نے استقبال کیا اور مذاکرات کئے، دنیا کہاں پہنچ گئی اور تم کیا کررہے ہو؟۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں انتظامیہ کچھ فساد پیدا کر انا چاہتی ہے،ہم کوئی ایسا موقع نہیں دینگے ان کو بھی عقل سے کام لینا چاہیے ورنہ یہ جلسہ پورے اسلام آباد اور حکومت کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک لوگ آرہے ہیں، قافلے آرہے ہیں اور اتوار کو بھی آئیں گے اور اجتماع میں شریک ہو نا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں اس موقع پر آپ سے اگلے اقدامات کے بارے ایک عہد لیناچاہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ قیادت جو بھی حکم دے گی آپ لبیک کہیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس آزادی مارچ سے ہم نے جو مقصد حاصل کیا وہ کسی کے تصور میں نہیں تھا اور ایک آواز پر پوری قوم اسلام آباد آئی اور شاید کوئی جماعت سو سال تک بھی یہ مقاصد حاصل نہ کر سکے جو آپ نے تین دن میں حاصل کر لئے۔مولانا فضل الرحمن نے سوال اٹھایاکہ قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو ایوب خان سے شکست کس نے دلائی تھی؟ تاریخ کا قلم بڑا بے رحم ہوا کرتا ہے،آنے والی تاریخ بتائے گی ان حکمرانوں کا انجام کیا ہوگا؟تاریخ کا قلم انتظار کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ قیادت نے دعوت دی ہے تو آپ یہاں آئے ہیں آگے مراحل بھی ملکر طے کر نا ہیں، تحریک تسلسل کانام ہے اس کے بعد اور میدان میں آئیں گے اور جائیں گے اور ناجائز حکمرازنوں کا تختہ الٹ دیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کرکسی پر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا نام حکومت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک کو ہم چلائیں گے ہم ترقی دینگے اور معیشت کو ٹھیک کرینگے، عوام کو تحفظ فراہم کرینگے، تم قوم کے سروں سے اتر جاؤ اور ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اسی استقامت کے ساتھ رہناہے

موضوعات:

loading...