سپریم کورٹ نے خود کش دھماکہ میں 20 مرتبہ سزائے موت پانے والے  ملزم کو بری کر دیا،فیصلہ جاری

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  18:44

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے آرے بازار راولپنڈی خود کش دھماکہ میں 20 مرتبہ سزائے موت پانے والے  ملزم کو بری کر دیا جبکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ بیس قیمتی جانیں چلی گئیں،سرکار نے اچھا کیس نہیں بنایا، شہادت قانون کے مطابق نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ ملوث ہونے میں ثابت کرنے کیلئے کچھ تو شہادت ہونی چاہیے۔ جمعرات کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم عمر عدیل پر راولپنڈی کے آرے بازار میں خود کش بمبار کی معاونت


کا الزام تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو بیس مرتبہ سزائے موت  سنائی تھی جسے  لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا، لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل  میں سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ عام دھماکہ نہیں بلکہ اس میں ملک و قوم کے محافظین کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں بیس قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بیس قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تاہم سرکار اچھا کیس بنانے میں ناکام رہی، گیارہ ماہ بعد شناخت پریڈ لا رہے ہیں، کیا گیارہ ماہ بعد کسی کی شکل یاد رہتی ہے، جسٹس کھوسہ نے کہاکہ کیا سرکار کو اتنے بڑے بازار میں دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی گواہ نہیں مل سکا، ان گواہوں کی گواہی چار پانچ ماہ بعد لے کر ضمنی کے شروع میں ڈال دی گئی، ہم نے اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، شہادت قانون کے مطابق نہ ہو تو ہم کیا کریں؟، ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو  شہادت ہونی چاہیے، عدالت ملزم کی بریت کا حکم سناتی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کارٹرفارمولا

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎