جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی تمام اپیلیں کسی کام نہ آئیں ،آزادی مارچ لائن آف کنٹرول عبور کرنے کیلئے چل پڑا، بھارتی فوج کی جانب سے شدیدفائرنگ اوربھاری گولہ باری کا خدشہ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان کی تمام اپیلیں نظر انداز،آزاد کشمیر سے ہزاروں افراد قافلوں کی شکل میں مظفر آباد پہنچ گئے ۔ یہ آزادی مارچ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر شروع کیا گیا جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے شرکاء چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کریں گے۔

تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مارچ کے شرکاء پر بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔مظفر آباد پہنچنے والے شرکاء آج اپراڈہ کے مقام پر جمع ہوئے جس کے بعد انہوں نے پیدل سیز فائر لائن کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔اس آزادی مارچ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف جوان مرد ہی نہیں بلکہ بزرگ، خواتین اور بچے بھی شریک ہیں۔دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی گئی ۔ کمشنر مظفر آباد ڈویژن کا کہنا ہے کہ مارچ کرنے والے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کے قریب جانے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ شرکاء پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے جس سے بہت سی انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے جلوس کے شرکاء سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے قریب جانے سے گریز کریں ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اہلِ کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے ایل او سی پار کرے گا، وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیر انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتا ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ اہلِ کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر ’اسلامی دہشت گردی‘ کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہلِ کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…