جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ریکوڈک کیس،جرمانہ ہونے کے باوجود ٹیتھیان کاپر کمپنی نے پاکستان کو ناقابل یقین آفر کردی

datetime 15  جولائی  2019 |

واشنگٹن(اے این این ) عالمی ثالثی فورم کی جانب سے ریکوڈک کیس کا فیصلہ حق میں آنے کے باوجود ٹیتھیان کاپر کمپنی(ٹی سی سی) نے 6 ارب ڈالر ہرجانے پر پاکستان کے ساتھ تصفیہ طلب مذاکرات کے ذریعے ممکنہ حل تک پہنچنے کے لیے بات چیت کی خواہش کا اظہار کردیا۔

ورلڈ بینک کے ثالثی فورم انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس(آئی سی ایس آئی ڈی)نے 2011 میں ریکوڈک منصوبے کی لیز منسوخ کرنے کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر کمپنی کی جانب سے پاکستان کے خلاف دائر کردہ دعوے میں ٹی سی سی کو 5 ارب 90 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کیے جانے کا حکم دیا تھا۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی دنیا کی بڑی کان کن کمپنیوں میں سے ایک بیرک گولڈ کارپوریشن اور اینٹوفیگیسٹا کا مشترکہ منصوبہ ہے۔اس نقصان میں کان کنی کی لیز منسوخ کیے جانے کے وقت ریکوڈک منصوبے کی فیئر مارکیٹ ویلیو کا معاوضہ 4 ارب 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور ایک ارب 75 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود شامل ہے۔ٹریبیونل نے حکومت پاکستان کو کیس کے دوران ٹی سی سی کے ہونے والے اخراجات کی مد میں 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم بھی ادا کرنے کا حکم دیا جو ہرجانے میں شامل ہے۔ اب ایک بیان جاری کرتے ہوئے اینٹوفیگیسٹا کے چیف ایگزیکٹو افسر کا کہنا تھا کہ ہمیں 7 سال سے زائد عرصے کے بعد ہمیں اس سنگِ میل تک پہنچنے پر خوشی محسوس ہورہی ہے۔دوسری جانب ٹی سی سی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر رضا مند ہیں اور تنازع کے حتمی نتیجے تک اپنے کمرشل اور قانونی حقوق کا تحفظ جاری رکھیں گے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ ہرجانے کا یہ فیصلہ دونوں فریقین کو پابند کرتا ہے اور آئی سی ایس آئی ڈی کے کنوینشن کے مطابق اس کو چیلنج کرنے کے امکانات محدود ہیں۔کان کنی کی لیز منسوخ ہونے سے قبل ٹی سی سی نے ایک فزیبلیٹی مطالعہ مکمل کیا تھا جس میں ظاہر تھا کہ ریکوڈک تانبے اور سونے کے دنیا میں سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک ہے جنہیں 50 سال تک نکالنا ممکن ہے اور ابتدائی سرمایہ کاری کی رقم 3 ارب ڈالر ہے۔

سرمایہ کاری کے بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی فراہم کرنے والے فورم آئی سی ایس آئی ڈی نے جمعے کے روز پاکستان کے خلاف ہرجانے کا فیصلہ جاری کیا تھا جو 7 سو صفحات پر مشتمل تھا۔علاوہ ازین ٹی سی سی نے 99 کلومیٹر کے علاقے میں موجودریکوڈک کے 14 ذخائر کی کان کنی کی لیز جاری کرنے کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مخصوص کارکردگی کے زمرے میں ایک درخواست انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس میں بھی دائر کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…