یا اللہ رحم! تبلیغی جماعت والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ،بڑے پیمانے پر شہادتیں

  پیر‬‮ 15 جولائی‬‮ 2019  |  15:04

آٹھ مقام( آن لائن ) وادی نیلم کے علاقہ لیسواء میں آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے تین گائوں ملبے کا ڈھیر بن گئے،27 افراد جاں بحق، متعدد لاپتہ، 60 1مکانات71 دکانیں نالہ لیسواء میں طغیانی کی وجہ سے بہہ گئی بجلی مواصلات کا نظام درہم برہم،12 گھنٹے گزرنے کے باجود ریسکیو کی کاروائیاں شروع نہ ہوسکیں۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی شب آٹھ بجے شدید آندھی اور طوفان باد وباراں کا سلسلہ شروع ہوا آسمانی بجلی گرنے سے ضلع آٹھمقام کے زیر یںسب ویلی لیسواء میں آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے نالہ لیسواء میں طغیانی آگئی جس سے تین


گائوں اپر بیلہ ، لوئر بیلہ، جندراں، لیسواء بازار صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق کم ازکم160 مکانات تباہ ہوئے ہیں71 سے زائد دکانیں بہہ گئی ہیں۔27 افراد جن میں 12 تبلیغی جماعت کے لوگ شامل ہیں ، لیسواء ویلی کو ملانے والے تمام راستے منقطع ہیں ضلعی انتظامیہ یا ریسکیو کرنے والے اداروں کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے ابھی تک کسی زخمی یا دبے ہوئے کسی شخص کو نکالا نہیں جا سکا ہے ۔ بجلی ٹیلی فون کا نظام درہم برہم ہے ۔ پولیس کی ٹیمیں نقصانات کی تفصیل اکٹھی کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ وادی نیلم کے علاقہ لیسواء میں آسمانی بجلی اور سیلابی ریلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نعشوں اور زخمیوں کو نکالنے لئے ریسیکیو آپریشن شروع۔ جاںبحق افراد جن کی میتیں نکال لی گئی ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ ظہور حسین ولد محمد حسین، عبدالقیوم ولد بگو، مشتاق حسین شیخ ولد صمد شیخ، رضیہ بی بی زوجہ شوکت بٹ،سمرین، شکیل بٹ، رانی بٹ، ملکہ بٹ، نائلہ بٹ، ساکنان لیسواء محمد اعمران، محمد سلیمان، محمد ہارون، محمد عرفان، محمد عمر سکنہ فیصل آباد پنجاب پاکستان، محمد اعجاز، محمد ابو بکر صدیق، جمال خان سکنہ لاہور پنجاب، عمرفاروق سکنہ شیخو پور ہ پنجاب پاکستان کی نعشیں نکال لی گئی ہیں۔ جبکہ زخمی جن کی حالت تشویش ناک ہے ۔ طارق زمان شیخ، عبدالوحید، شیخ احسن، شاہد شیخ بشارت ذیشان ملک نواز ملک آصف کو نکال کر علاج معالجہ کے لئے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کنٹرول روم کے مطابق تین مساجد ، 30 سے زائد گاڑیاں10 کے قریب جندر طغیانی میں بہہ گئے ہیں عینی شاہدین کے مطابق ایک کرولا بلیک رنگ کی کار اور ایک کیری ڈبہ جو کہ لیسوا کی طرف جا رہا تھا سوار افراد کے سمیت سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے ہیں۔ دس کے قریب نکالی گئی نعشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر مطہر نیاز رانا، آئی جی صلاح الدین محسود ریسکیو کی نگرانی کے لئے دارالحکومت سے ضلعی ہیڈکواٹھمقام پہنچ گئے ہیں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

موضوعات:

loading...