جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جج ارشد ملک نے مریم نواز کی جانب سے پیش کر دہ مبینہ ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیدیا ، مجھے پہلے رشوت کی پیشکش ہوئی ، ویڈیو کو کس انداز میں پیش کیا گیا

datetime 7  جولائی  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے والے احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک نے مریم نواز کی جانب سے بذریعہ ویڈیو الزامات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ ویڈیو مفروضوں پر مبنی ہے ،ناصر بٹ اور ان کے بھائی کے ساتھ پرانی شناسائی ہے ، دنوں بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل چکے ہیں،ویڈیو میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی

جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، پہلے مجھے رشوت کی پیشکش کی گئی ، تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں،اگر میں دباؤ میں آکر فیصلہ کرتا تو ایک کیس میں بری اور دوسرے میں سزا نہ دیتا ،ویڈیو کے معاملے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ اتوار کو سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے لائی جانے والی مبینہ ویڈیو اور آڈیو پر وضاحت پیش کرتے کہاکہ میں ارشد ملک اسلام آباد میں بطور احتساب عدالت جج فرائض سر انجام دے رہا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے گزشتہ روز مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب کی جانے والی ویڈیو ز دیکھی ہیں کیونکہ اس پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے ادارے ،میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کر نے کی سازش کی گئی ہے لہذا اس ضمن میں حقائق منظر عام پر لانا چاہتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتا رہا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ مذکورہ ویڈیو ز میں دکھائے گئے کر دار ناصر بٹ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے اور میری اس سے پرانی شناسائی ہے ، ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبد اللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار دفعہ مل چکے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ریڈیوز نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی

جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر نے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے وہ یہ کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دور ان مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نہ صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نہ کر نے کی

صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے اگر دبائو یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنایا ہوتا تو ایک مقدمہ میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کر تا ۔ انہوںنے کہاکہ میں نے انصاف کر تے ہوئے شواہد کی بنا پر نوازشریف کو العزیزیہ کیس میں سز ا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا ۔

انہوںنے کہاکہ میں یہ بھی واضح کر ناچاہتا ہوں کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ نہ تو کوئی دبائو تھا اور نہ ہی کوئی لالچ پیش نظر تھا ۔انہوںنے کہاکہ میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر و ناظر جان کر قانون وشواہد کی بنیاد پر کئے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ پریس کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازع بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کر نے کے لئے کی گئی ہے اس میں دکھائی گئی ویڈیوز جھوٹی ، جعلی اور مفروضی ہیں لہذاس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…