اسلام آباد(سی پی پی )سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو حکومت 4 ہزار ارب ریونیو پورانہ کر سکے 5500 ارب کا کیسے اکٹھا کریگی ‘1500ارب کیلئے ہر چیزمہنگی کرنی پڑرہی ہے ۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 4 ارکان اسمبلی
گرفتارہیں،2 کے پروڈکشن آرڈرجاری کئے گئے 2 کے نہیں،انہوں نے کہا کہ ایوان میں صرف اپوزیشن بنچ سے عوام مسائل پر بات ہو رہی ہے ،حکومت کہہ رہی ہے کہ افراط زر 13 فیصدپرآجائیگا،ایک سال پہلے ملکی گروتھ ریٹ 6 فیصدتھا،انہوں نے کہا کہ جو حکومت 4 ہزار ارب ریونیو پورانہ کر سکے 5500 ارب کا کیسے اکٹھا کریگی ،جو قوم 4 ہزار ارب کا ٹیکس برداشت نہیں کر سکتی5500 ارب کا کیسے کرے گی ،1500 ارب کیلئے ہر چیزمہنگی کرنی پڑرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آمدن اوراخراجات کافرق 50فیصدسے بڑھ گیاہے،رواں سال بجٹ میں سود کیلئے 2900 ارب روپے رکھے گئے ہیں ،سودکی رقم میں اضافہ نہ کرتے توٹیکس بڑھانانہ پڑتے،موجودہ حکومت نے 8 ماہ میں یہ حال کردیا ،حکومت 5 سال پورے کرے گی توکیاحال ہوگا؟ حکومت کومسائل کے حل تلاش کرنے چاہئیں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کہا جاتا ہے ہم نے بہت قرضہ لیا اس پر کمیشن بھی بن گیا،آج بھی بتا سکتا ہوں قرضہ کمیشن کی رپورٹ میں کیا لکھا جائے گا،نیب کو بھیجیں یا کمیشن بنائیں شرح سود بڑھانے کی کا جواب دیں ،انہوں نے کہا کہ حکومت جب ذمہ داری سے بات نہ کرے تو ناکام ہی ہوتی ہے ،ہم خود اس تاثر کو بڑھاتے ہیں کہ حکومت شاہ خرچیاں کرتی ہیں ۔