’’پاکستان کو اب ایشیا کا ٹائیگر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ‘‘ وزیراعظم کیا کرنے جارہے ہیں ؟ عوام کو خوشخبری سنادی گئی

  جمعہ‬‮ 26 اپریل‬‮ 2019  |  12:03
بیجنگ(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے چین کے میگا منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے پانچ نکات پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مشترکا کوششیں، سیاحت کا فروغ ، کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز کیخلاف مشترکا حکمت عملی، غربت کے خاتمے کیلئے فنڈز کا قیام اور تجارت و سرمایہ کاری کیلئے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں، پاکستان اور چین سی پیک کے اگلے فیز کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام ہوگا، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی اور چین کے تعاون سے گوادر تیزی سے دنیا کا تجارتی مرکز بن رہا ہے ،سی پیک کے اگلے مرحلے میں چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہوگا،وائٹ کالر کرائم ہی ترقیاتی کاموں کو برباد کرتا ہے ، خاتمے کیلئے پاکستان بھرپور اقدامات کررہاہے ،پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پْرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں ،ہماری گہری دوستی، اشتراکیت اور برادرانہ تعلقات ہر قسم کے چیلنج کے دوران اسی طرح مضبوط، محفوظ اور اٹوٹ رہیں گے۔ جمعہ کو بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے چین کے میگا منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے پانچ نکات پیش کرتے ہوئے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے مشترکا کوششیں، سیاحت کا فروغ ، کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز کیخلاف مشترکا حکمت عملی، غربت کے خاتمے کیلئے فنڈز کا قیام اور تجارت و سرمایہ کاری کیلئے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین سی پیک کے اگلے فیز کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام ہوگا، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی اور چین کے تعاون سے گوادر تیزی سے دنیا کا تجارتی مرکز بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ (ون بیلٹ ون روڈ) منصوبہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے بھی اہم ہے تاہم پاکستان چین کی اس بڑی کاوش کا ابتدائی شراکت دار ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ اہمیت کا حامل ہوگا ہم بنیادی ڈھانچے، ریلوے ، آئی ٹی اور توانائی میں چین کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں اس کے ساتھ زراعت، صحت اور تعلیم میں تعاون کا فروغ چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے پاکستان میں احساس کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جو چین کے ماڈل سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا ہے کیونکہ چین نے 30 سال سے کم عرصہ میں 800 ملین سے زائد افراد کو غربت سے نکالا ہے، ہم نجی شعبہ کی شراکت داری سے اقتصادی و سماجی ترقی کے اہداف حاصل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایک خطہ ایک شاہراہ کا چین کے صدر کا وژن دانشمندی، باہمی عزت و احترام اور خوشحالی کا ماڈل ہے۔ نہوںنے کہاکہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کو بنیادی اہمیت دے رہے ہیں جس پر ہم سب کو ملکر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے گزشتہ 5 سال کے دوران ایک صوبے خیبرپختونخوا میں پانچ ارب درخت لگائے ہیں جبکہ آئندہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ فورم میں شریک ممالک ملکر موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات پر قابو پانے کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سیاحت کے شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جس سے لوگوں کے لوگوں سے رابطوں کی بحالی ہوگی۔ فورم میں شریک ممالک پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں معاونت کریں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ باہمی عزت اور احترام کی بنیاد پر شراکت داری کا خواہش مند ہے اور ہم دنیا کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔عمران خان نے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان وائٹ کالر کرائم کے خاتمے کے لیے بھر پور اقدامات کر رہا ہے کیونکہ وائٹ کالر کرائم ہی ترقیاتی کاموں کو برباد کرتا ہے۔وزیر اعظم نے شرکاء کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پْرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دنیا میں جیو پولیٹکل غیر یقینی صورتحال اور تجارت کے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور رکاوٹوں کی موجودگی میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تعاون، اشتراکیت، روابط اور مشترکہ خوشحالی کا ماڈل فراہم پیش کرتا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ بی آر آئی منصوبہ گلوبلائزیشن کی جانب سفر کرتی اقوام کیلئے ایک نئی جہت کا آغاز ہے ی ہاں دنیا میں کئی ممالک کے سربراہان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے مایوسی کے بجائے امید اور محاذ آرائی کے بجائے تعاون کا انتخاب کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اب تک 122 ممالک اور 49 بین الاقوامی تنظیموں نے بی آر آئی منصوبے پر دستخط کردئیے ہیں یہ ایک تاریخی اور یادگار پیش رفت ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کو اس تغیراتی تبدیلی میں چین کے ساتھ اشتراک پر فخر ہے، ہم بی آر آئی کے اولین اور پرجوش حامیوں میں سے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بی آر آئی کے بڑے عنصر اور اولین توضیحات میں سے ایک ہے جس میں بڑی واضح پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اہم ترین بنیادی ڈھانچے میں خلا کو کیا جارہا ہے، گوادر جو ماہی گیروں کا ایک گاؤں تھا اب تیزی سے ایک اقتصادی حب بنتا جارہا ہے اور گوادر ایئر پورٹ ملک کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہوگا۔انہوںنے کہاکہ میں چین کی جانب سے پاکستان ک غیر مشروط حمایت پر چینی قیادت کا شکرگزار ہوں ہماری گہری دوستی، اشتراکیت اور برادرانہ تعلقات ہر قسم کے چیلنج کے دوران اسی طرح مضبوط، محفوظ اور اٹوٹ رہیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔وزیراعظم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بالخصوص تعمیرات، ریلوے، ڈیمز، انفارمیشن ٹینکالوجی اور مصنوعات کے شعبے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے آزادانہ نظام سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی۔

موضوعات:

loading...