منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس آف پاکستان اعلان کریں اگر آئندہ پولیس کی گولی سے کوئی بے گناہ قتل ہوا تو اس کا ذمہ دار آئی جی ہو گا،ہم نے پولیس کو لائسنس ٹو کل دے رکھا ہے، عمران خان نے آج قوم کو ایک بار پھر تسلی دی‘ آپ نے گھبرانا نہیں، کیا قوم کو اب بھی نہیں گھبرانا چاہیے، جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

کراچی میں ڈیڑھ سال کا ایک اور بچہ پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا‘ مقتول احسن کے والدین اسے گود میں لے کر گھر کا سودا خریدنے کیلئے رکشے میں بازار جا رہے تھے‘ صفورا چونگی کے قریب پولیس نے سوکالڈ ملزمان پر فائرنگ کی‘ گولی ڈیڑھ سال کے احسن کو لگ گئی‘ بچہ والدہ کی گود میں ہلاک ہو گیا‘ یہ کراچی میں اس نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے، 20 جنوری 2018ء کو شاہراہ فیصل پر مقصود پولیس مقابلے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا‘ تیرہ اگست 2018ء کو ڈیفنس میں 10 سال کی امل

پولیس کی اندھی گولی کا نشانہ بن گئی‘ 23فروری 2019ء کو میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ نارتھ کراچی میں پولیس کی گولی کا شکار ہوگئی اور چھ اپریل 2019ء کو قائدآباد میں 12 سال کا بچہ سجاد پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگیا ‘ یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے‘ پولیس اس ملک کے عوام کے تحفظ کیلئے ہے‘ عوام کو اس طرح گولیاں مارنے کیلئے نہیں‘ میری چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے آپ سندھ کے آئی جی پولیس کو بلائیں اور ان پر قتل کے چھ مقدمے درج کریں اور یہ اعلان کریں اگر آئندہ پولیس کی گولی سے کوئی بے گناہ قتل ہوا تو اس کا ذمہ دار آئی جی ہو گا‘ آپ اس کے بعد دیکھئے گا پورے ملک میں پولیس کسی کو گولی نہیں مارے گی‘ ہم نے پولیس کو لائسنس ٹو کل دے رکھا ہے‘ یہ جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں یہ کسی کو بھی گولی مار دیتے ہیں‘ ساہیوال کا واقعہ پولیس گردی کی خوفناک ترین مثال ہے‘ ریاست نے جب اس واقعے پر بھی کسی کو سزا نہیں دی تو پھر پولیس احسن جیسے بچوں کو کیوں نہ مارے‘ ہمیں کم از کم اب ہوش آ جانی چاہیے، اس سے پہلے کہ صاحب اقتدار لوگوں کے بچے بھی احسن کی طرح مرنا شروع ہو جائیں۔ گھروں کا منصوبہ اچھا ہے لیکن خدشہ ہے کہیں اس کا حشر بھی انڈوں اور مرغیوں کی سکیم کی طرح نہ ہو جائے‘ کیا ہماری اکانومی میں اتنی جان ہے کہ یہ گھروں کی اس سکیم کا معاشی بوجھ اٹھا سکے اور کیا بلوچستان کے لوگ فلیٹس میں رہ لیں گے، ملک میں صدارتی نظام کی بحث نے ایک بار پھر جنم لے لیا ہے‘ کیا یہ ممکن ہے؟ اور عمران خان نے آج قوم کو ایک بار پھر تسلی دی‘ آپ نے گھبرانا نہیں‘ کیا قوم کو اب بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…