جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر بھارتیوں کا انداز تبدیل،مودی سے نو ٹو وار کا مطالبہ بہت ہوگیا ’’جنگ نہیں چاہئے‘‘بھارت میں ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

datetime 28  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) بھارتی شہریوں نے نریندر مودی کی جنگ کی خواہش پر پانی پھیر دیا، بھارت میں سے ’’نو ٹو وار‘‘ ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ بن گیا اور اسی طرح پاکستانیوں کی جانب سے سے ’’نو ٹو وار‘‘ سمیت جنگ نہیں امن کے ہیش ٹیگ کا مسلسل استعمال کیا جارہا ہے۔ پاکستانیوں کی طرف سے شروع سے ہی مختلف ٹویٹس میں بار بار سے نو ٹو وار کا ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا ہے۔

بنیادی طور پر پاکستان کے عبرت ناک جوابی وار نے انڈین ٹوئٹر ٹرینڈ ہی بدل ڈالا ہے،خوشی کے شادیانے بجانے اور جنگ جنگ کرنے والے اب جنگ نہیں چاہئے کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔معروف انڈین دانشور اور رائٹر سنجوکتا باسو نے ٹویٹ کیا کہ کشمیر سمیت اس المیے میں چار زندگیوں گنوانے کا ایک ہی شخص ذمہ دار ہے جس کا نام نریندر مودی ہے، سب کی کوششیں گرفتار کمانڈر ابھے نندن کو واپس لانے پر مرکوز کرنی چاہئیں۔اسی طرح انانیا شرما نے ٹویٹ کیا کہ وہ پاکستان کی شکر گزار ہیں اور اچھے تاثر کی معترف ہیں۔ ابھے نندن احمق نریندر مودی کے حکم کو مانتے ہوئے الیکشن کے لیے گرفتار ہوگیا۔صدر آل انڈیا پروفیشنلز کانگرنس روکشمانی کماری نے لکھا کہ پاکستان اور بھارت کو جہالت، غربت اور تشدد کے خلاف جنگ لڑنی چاہئے۔رحمان صدیق نے ٹویٹ کیا کہ امید ہے کہ پاکستان ویانا کنونشن کے تحت گرفتار کمانڈر ابھے نندن کے ساتھ اچھا برتائو کرے گا اور جلد بھارت کے حوالے کرے گا۔ رحمان صدیق نے کارگل وار میں گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ کی تصویر بھی شئیر کی۔ایک اور صارف نے لکھ کہ جنگ میں داخل ہونے کے بعد کچھ بھی اچھا نہیں رہتا۔بھارتی شہریوں نے سوشل میڈیا پر اپنے وزیراعظم نریندر مودی کومذاکرات کی راہ اپنانے کے مشورے دیئے ہیں۔

جو ثابت کرتا ہے کہ بھارتی عوام بھی حکومت کے ساتھ نہیں کیونکہ ایک جانب بھارتی حکومت پر جنگی جنون سوار ہے لیکن دوسری جانب بھارتی عوام اس کے بر عکس موقف اپنائے ہوئے ہے۔یہاں اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سوشل میڈیا پر کچھ انتہا پسندوں کی جانب سے جنگ کی حمایت میں بھی ٹویٹ کیے گئے ہیں لیکن اب ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں رہی البتہ گزشتہ روز بھارتیوں کی جانب سے ایسے ٹویٹس کیے گئے تھے جس میں جنگ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کچھ بھارتی صارفین کی جانب سے پاکستان کے خلاف نا صرف سخت اور غیر اخلاقی زبان کا استعمال کی گیا ہے بلکہ مودی حکومت سے جنگ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے لیکن آج بھی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ سے نوٹو وار ہی رہا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ بھارتی عوام بھی اب جنگ نہیں چاہتی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…