پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کا دھڑن تختہ، پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ (ق) سے رابطے تیز ،پیپلزپارٹی نے چوہدری پرویز الٰہی کو بہت بڑی پیشکش کردی

datetime 24  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب اور وفاق میں پی ٹی آئی حکومتوں کا دھڑن تختہ کرنے کیلئے مسلم لیگ (ق) سے رابطے تیز کردیئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے چوہدری پرویز الٰہی کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ختم کردیں تو انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پیشکش میں یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کی بھرپور سپورٹ کریں گے

اور مسلم لیگ (ق) کو وفاق میں دونوں جماعتوں سے تعاون کرنا ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ (ق) سے روابط بڑھانے اور سندھ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے قابل بھروسہ رہنما نے چوہدری پرویز الٰہی کو یہ پیشکش دی اور یہ بھی یقین دہانی کروائی کے اس پیشکش کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ پیشکش سمجھا جائے ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے مشورہ کرکے جواب دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ پنجاب میں اس وقت مسلم لیگ (ق) کی دس سیٹیں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف چھ سیٹیں ہیں اس طرح دونوں جماعتیں مسلم لیگ (ن) کے کندھے پر بیٹھ کر پنجاب میں اقتدار سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوسکتی ہیں پنجاب میں اگر متوقع اتحاد ہوگیا تو وفاق میں مسلم لیگ (ق) کی پانچ سیٹیں بھی اس فطری اتحاد میں شامل ہوجائینگی سیاسی حلقے مسلم لیگ (ق) ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو فطری اتحاد قرار دے رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پہلے بھی میثاق جمہوریت کے مزے لے چکے ہیں اور پھر اتحاد کا اعلان کرچکے ہیں اس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کا اتحاد بھی کامیاب رہ چکا ہے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے براہ راست مداخلت کرکے اگر مسلم لیگ (ق) کے قائدین کے وقتی طور پر راضی بھی کرلیا تو عارضی علاج ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کی بڑے اتحاد کیلئے پیش قدمی جاری رہے گی کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ان تمام جماعتوں کی مرکزی قیادت کو ہر طرف سے ریلیف مل سکتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…