منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

چیئرمین پی اے سی کا اعلان ، حکومت نے شہبازشریف کو ناقابل یقین آفر کردی

datetime 13  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہباز شریف نیب کے کیسز سے دوچار ہیں وہ کیسز غلط ہیں یا صحیح اپنا دفاع کریں گے، نیب کا اس ایوان سے تعلق نہیں، یہ ماضی کے کیسز ہیں، پی ٹی آئی کا اور اسکی حکومت کا بھی ان کیسز سے کوئی تعلق نہیں ، قائد حزب اختلاف کو جس پر اعتماد ہو اسے چیئرمین کیلئے نامزد کردیں، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے گی تو یہ درست نہیں۔

جن کا جمہوری ذہن ہو گا وہ چاہے گا ایوان چلے، جس کا ذہن نہیں ہو گا وہ کہے گا میں نہیں تو کچھ نہیں، ہاؤس کے تقدس کو پامال نہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، اپوزیشن کبھی حکومت میں آتی ہے اور کبھی حکومت اپوزیشن بنتی ہے۔جمعرات کو ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈرجاری کئے جس پر وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئے، یہ ایوان ہم سب کا ہے، اس ایوان کے قوانین کا احترام ہم سب پر لازم ہے، حالات چلتے رہتے ہیں، اپوزیشن کبھی حکومت میں آتی ہے اور کبھی حکومت اپوزیشن بنتی ہے، یہ اتار چڑھاؤ رہتا ہے، ہاؤس کے تقدس کو پامال نہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، بات آگے چلے گی تو ایوان چلے گا، ہمیں لوگوں نے منتخب کر کے یہاں بھیجا ہے، ہمیں لوگوں نے اس لئے چنا تا کہ ہم اپنا اپنا نقطہ نظر یہاں رکھیں، یہی جمہوریت ہے، ایوان میں دونوں طرف سنجیدہ رویہ کی ضرورت ہے، حکومت کی طرح اپوزیشن کی بھی ذمہ داریاں ہیں، اگر ہم یہاں آ کر ہنگامہ کھڑا کر دیں تو اس سے نقطہ نظر پورا نہیں ہو گا، ایوان کے فلور پر کی گئی بات کی اہمیت اور افادیت ہوتی ہے، دونوں طرف سنجیدہ رویے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے آپ کو حدود و قیود میں رکھنے کی ضرورت ہے، آئیے بیٹھ کر ایسا راستہ نکالیں تا کہ نظام چل سکے اور ہم بہتری کی جانب چلیں، جب یہ اسمبلی وجود میں آئی تو اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

اپوزیشن کو انتخابات پر اعتراض تھا، حکومت نے پھر بھی ایک راستہ نکالا، حکومت نے معاملے کی چھان بین کیلئے کمیٹی بنا دی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے گی تو یہ درست نہیں، جن کا جمہوری ذہن ہو گا وہ چاہے گا ایوان چلے، جس کا ذہن نہیں ہو گا وہ کہے گا میں نہیں تو کچھ نہیں، پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے بغیر پارلیمنٹ کیسے فنکشنل ہو سکتا ہے، میں اپوزیشن کے بینچوں اور اپنے بینچوں سے گزارش کرتا ہوں کہ ان سٹینڈنگ کمیٹیوں کا بننا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ضرورت ہے۔

ان کمیٹیوں میں اپوزیشن کا رول ہوتا ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا معاملہ آگیا، اپوزیشن لیڈر کے علاوہ بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بنتے رہتے ہیں، قائد حزب حزب اختلاف نیب کے کیسز سے دوچار ہیں، وہ کیسز غلط ہیں، صحیح ہیں وہ اپنا دفاع کریں گے، نیب کا اس ایوان سے تعلق نہیں، یہ ماضی کے کیسز ہیں، پی ٹی آئی کا اور اس کی حکومت کا ان کیسز سے کوئی تعلق نہیں ہے، قائد حزب اختلاف کو جس پر اعتماد ہو اسے چیئرمین کیلئے نامزد کردے،ہم ان کے فیصلے پر کوئی انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے، اپوزیشن کے معزز ممبران اس معاملے پر تقاضا کرتے رہے کہ قائد حزب اختلاف کو ہی چیئرمین ہونا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…