پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

تھر میں بچے نہیں بلونگڑے پیدا ہو رہےہیں، میں نے وہاں پانی پیا تو سارا دن میرے ساتھ کیا ہوا، چارپائیوں کاعارضی ہسپتال بنایا گیا جو ہمارے آتے ہی اٹھا لیا گیا، چیف جسٹس سندھ حکومت پر برہم

datetime 13  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تھر میں بچے نہیں بلونگڑے پیدا ہو رہے ہیں، سب سے زیادہ ابتر حالت ، مٹھی ہسپتال میں آپریشن تھیٹر میں کوئی سرجن ہے نہ ادویات، مٹھی میں کوئی ریڈیالوجسٹ نہیں ہے، دو دن کے لئے تھر میں نرسیں اور ڈاکٹر لے کر گئے، چارپائیوں کا عارضی اسپتال بنایا گیا تھا، ہمارے آنے کے بعد سارااسپتال اٹھا لیا گیا، کہاں ہے انتظامیہ اور حکومت، عدالت کام کرے تو تنقید

کی جاتی ہے، تھر کے اسکولوں میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا، واش روم بھی نہیں تھا، سمجھ نہیں آئی بچیاں واش روم کے لئے کہاں جاتی ہوں گی، آر او پلانٹ سے پانی پی کر خود سارا دن پریشان رہا ہوں، یہ پانی لوگوں کو پینے کے لئے دیا جاتا ہے، مجھے کہا گیا تھا کہ پانی تھوڑا پینا تھا، وزیر اعلی نے تو ایک قطرہ پانی نہیں پیا، مٹھی ہسپتال میں نومولود ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس ، سندھ حکومت کی کارکردگی کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے آج مٹھی ہسپتال میں نومولود ہلاکت کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھر کے حالات بہت زیادہ ابتر ہیں اور کہیں پر بھی ایسی صورتحال نہیں، تھر میں بچے نہیں بلونگڑے پیدا ہورہے ہیں، آپریشن تھیٹر میں کوئی سرجن ہے نہ ادویات، مٹھی میں کوئی ریڈیالوجسٹ نہیں ہے، دو دن کے لئے تھر میں نرسیں اور ڈاکٹر لے کر گئے، چارپائیوں کا عارضی اسپتال بنایا گیا تھا، ہمارے آنے کے بعد سارااسپتال اٹھا لیا گیا۔کہاں ہے انتظامیہ اور حکومت، عدالت کام کرے تو تنقید کی جاتی ہے، تھر کے اسکولوں میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا، واش روم بھی نہیں تھا، سمجھ نہیں آئی بچیاں واش روم کے لئے کہاں جاتی ہوں گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اربوں روپے کا پاور اسٹیشن بن رہا ہے لیکن بچیاں کئی کلومیٹرپانی سر پراٹھا کر چلتی ہیں، آر او پلانٹ سے پانی پی کر خود سارا دن پریشان رہا ہوں، یہ پانی لوگوں کو پینے کے لئے دیا جاتا ہے، مجھے کہا گیا تھا کہ پانی تھوڑا پینا تھا، وزیر اعلی نے تو ایک قطرہ پانی نہیں پیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کسی کو تحفے میں نہیں ملا، کیا ملک کو من مرضی سے چلایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…