ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

تحریک آزادی کشمیر کو لوگوں کی بڑی حمایت حاصل ہے،مقامی نوجوان مجاہدین میں شامل ،بھارتی جنرل نے تنازعہ کشمیر کو سیاسی طورپر حل کرنے کامطالبہ کردیا

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ نے تنازعہ کشمیر کو سیاسی طورپر حل کرنے کے لیے کشمیریوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ فوج کا ایک محدود کردار ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل بھٹ نے نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کو اچھے نظم و نسق اورسیاسی مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے جس طرح اٹل بہاری واجپائی کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ فوج صرف معمول کے حالات بحال کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہے اسکے بعداچھے نظم ونسق، لوگوں سے سیاسی مذاکرات جیسے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کے دور میں ایسا ہی ہواتھا اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکومت بھی صحیح وقت پر ایسے اقدامات کرے گی۔ جنرل بھٹ نے فوج کے کردار کے بارے میں کہاکہ امن کو برقرار رکھنا فوج کا کام ہے لیکن مسئلے کا طویل مدتی حل حکومت کو خود ڈھونڈنا ہوگا۔ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ سیاسی حل کے بارے میں مختلف لوگ مختلف تشریح کرتے ہیں جنرل بھٹ نے کہاکہ میں اس میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ یہ میرا کام نہیں ہے۔ بھارتی جنرل نے اعتراف کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کو لوگوں کی بڑی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی تعداد میں مقامی نوجوانوں کا مجاہدین میں مسلسل شامل ہونا فوج کے لیے تشویش کا دوسرا بڑا سبب ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ گزشتہ دو ماہ کے دوران اس میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے لیکن اپریل ، مئی اور جون کے مہینوں میں یہ تعداد بڑھتی جارہی تھی یہی وجہ ہے کہ 200 مجاہدین کو شہید کرنے کے باوجود ان کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑاہے۔ ) بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل اے کے بھٹ نے تنازعہ کشمیر کو سیاسی طورپر حل کرنے کے لیے کشمیریوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ فوج کا ایک محدود کردار ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…