اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس سے شکایت ،عمران خان نے اپنی بہن علیمہ خان کے بارے میں دوٹوک اعلان کردیا

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان سے سینئر صحافیوں نے انٹرویو کے دور ان ڈی پی او پاکپتن کے حوالے سے سوال کیا اور پوچھا کہ سپریم کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب نے غلطی تسلیم کی لیکن آپ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عثمان بزدار پنجاب کے چیف ایگزیکٹیو ہیں ان کے پاس ایک شہری آکر رپورٹ کرتا ہے اور ٹھیک رپورٹ کرتا ہے کہ پولیس نے زیادتی کی ہے تو ایک چیف ایگزیکٹو کیا پولیس افسر کو بلا کر کیا پوچھ نہیں سکتا یہ کون سی دنیا میں ہوتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے کئی زبردست کام کیے ہیں لیکن مجھے تھوڑا اعتراض ہے ان پر کہ ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹیو ہے وہ پوچھ رہا ہے کیا غلطی کررہا ہے کوئی کہے کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ پوچھے نہیں وہ اس کی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے افسوس ہوا کہ انہوں نے زلفی بخاری کو سپریم کورٹ میں کہا کہ میں نے اقرباپروی کی ہے میں اس چیز کو اس لیے رعایت دیتا ہوں کہ میں دس برس تک پاکستان ٹیم کا کپتان رہا کوئی مجھے بتائے کہ میں نے ایک رشتہ دار، دوست کو سپورٹ کیا، نمل یونیورسٹی میں بتائے، شوکت خانم میں بتائے اور پشاور میں بتائے کہ ایک آدمی کو اقربارپروری یا فیورٹ کے طور پر لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خیبرپختونخوا میں حکومت کو پانچ سال ہوئے ایک مجھے بتائیں کہ میں نے ایک رشتہ دار دوست کو کوئی پوزیشن دی ہو ٗمجھے اس کا بڑا افسوس ہوا کہ چیف جسٹس صاحب نے سپریم کورٹ میں کہا کہ یہ اقربا پروری ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے آج تک کسی ادارے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی، میری بہن کا نام آرہا ہے، پوچھیں میں نے کسی سے مداخلت کی۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کو ایسا وزیراعلیٰ ملا نہیں جو ہر وقت دستیاب ہیں اور اس کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور لوگ آتے ہیں اور انہوں نے ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ کیا نہیں بلکہ اس وقت کے آئی جی نے کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…