اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پرائیوٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج کیخلاف کیس،چیف جسٹس نے ایسا حکم جاری کردیا کہ آپکی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(سی پی پی)پرائیوٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج کیخلاف کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارنے ڈاکٹرزہسپتال انتظامیہ کوطبی اخراجات پرنظرثانی کرنے کا حکم دے دیا۔پرائیوٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج کیخلاف کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی

میں دورکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں کی۔اس موقع پر ڈاکٹرز ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسرغضنفر علی شاہ عدالت کے روبروپیش ہوئے ۔چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے غضنفر علی شاہ کیساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو آپ سے شکایات ہیں آپ مہنگا علاج کرتے ہیں،پی ایم ڈی سی نے علاج کے جوریٹ طے کیے اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا،ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے توہسپتال بند کردیں،جس پر سی ای او ڈاکٹرز ہسپتال کا کہنا تھا کہ آپ کی مرضی ہے توبند کر دیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیسے وصول کرسکتے ہیں،آپ مریضوں سے ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں،آپ کودل کے اسٹنٹ ڈالنے کے لئے ایک لاکھ روپے تک وصول کرنے کا حکم دیا تھا،ایک مریض کا30دن کا بل آپ نے 40لاکھ روپے بنادیا،غریبوں کوبھی اچھا علاج کروانے دیں۔جس پرسپریم کورٹ نے ڈاکٹرزہسپتال انتظامیہ کوطبی اخراجات پرنظرثانی کرنے کا حکم دے دیا۔ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ڈاکٹرزہسپتال نے تجاوزات قائم کررکھی ہیں،ایک کینال کے پلاٹ پرڈاکٹرزہسپتال کمرشل سرگرمیاں کررہے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نظر ثانی کریں اپنے فیصلوں پرورنہ عدالت فیصلہ کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…