بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

یوم آزادی نہ منانے کا متنازعہ بیان ،فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ شہباز شریف بھی ز د میں آگئے ،ریاست سے بغاوت کا الزام عائد، بڑا حکم جاری

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) یوم آزادی نہ منانے کے متنازعہ بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کردی گئی۔دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی درخواست لاہور کی سیشن کورٹ میں دائر کردی گئی۔درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے 8 اگست کو اشتعال انگیز تقریر کی،

انکے 14 اگست نہ منانے کے حوالے سے بیان سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے، ان کی تقریر بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ شہباز شریف نے بھی عوام کو 14 اگست نہ منانے کی تلقین کی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فضل الرحمن اور شہباز شریف کے خلاف مقدمے کا حکم دے۔درخواست کے بعد سیشن عدالت نے ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ہر سال 14اگست یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن اب کی بار ہم 14اگست کو یوم آزادی نہیں منا سکتے کیونکہ ہماری رائے کا حق چھین لیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمن کے متنازعہ بیان پر شہباز شریف نے بھی تائید کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ فضل الرحمن سے متفق ہیں، کیا 14اگست کے ساتھ شفاف الیکشن کی خوشی منا سکتے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔  یوم آزادی نہ منانے کے متنازعہ بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے خلاف مقدمے کی درخواست دائر کردی گئی۔دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی درخواست لاہور کی سیشن کورٹ میں دائر کردی گئی۔درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے 8 اگست کو اشتعال انگیز تقریر کی، انکے 14 اگست نہ منانے کے حوالے سے بیان سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…