ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی؟ اس پالیسی میں ایسا کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی سمیت متعدد اہم رہنماؤں نے وزیر خارجہ بننے سے انکار کر دیا، حامد میر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ بنانا چاہتے تھے مگر شاہ محمود قریشی نے یہ تجویز پیش کی کہ انہیں سپیکر بنا دیا جائے، قومی اسمبلی کا سپیکر بننے کی خواہش کا اظہار انہوں نے خود کیا، معروف صحافی نے کہا کہ نئی حکومت کے لیے توانائی بحران، پانی کا بحران، قرضوں کا بوجھ، آئی ایم کا پریشر،

خارجہ پالیسی میں امریکہ کی طرف سے کافی پریشر ہوگا۔ معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ عمران خان کی خارجہ پالیسی کا سب کو پتہ ہے ان کا ووٹ بینک اس لیے بڑھا کہ انہوں نے امریکہ کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو انہیں عالمی طاقتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا اور یہی وجہ ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ بننے سے گریزاں تھے، معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نرم مزاج آدمی ہیں، پہلے وہ ہیلری کلنٹن سے دوستانہ تعلقات کی بناء پر چل رہے تھے مگر اب وزیر خارجہ کو پاکستان کے مفاد کے خلاف امریکی مطالبات پر سٹینڈ لینا پڑیگا۔ معروف صحافی نے کہا کہ شاہ محمود کے علاوہ دیگر رہنما بھی وزیر خارجہ بننے سے گریزاں ہیں، انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہش مند تھے جس پر بتایا گیا کہ اس پر تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے جو ساز گار نہیں اس لیے وہ وزیراعلیٰ پنجاب نہ بنیں، جس پر شاہ محمود قریشی نے خود قومی اسمبلی کا سپیکر بننے پر اصرار کیا جس پر عمران خان ان کی بات مان گئے۔  عمران خان شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ بنانا چاہتے تھے مگر شاہ محمود قریشی نے یہ تجویز پیش کی کہ انہیں سپیکر بنا دیا جائے، قومی اسمبلی کا سپیکر بننے کی خواہش کا اظہار انہوں نے خود کیا، معروف صحافی نے کہا کہ نئی حکومت کے لیے توانائی بحران، پانی کا بحران، قرضوں کا بوجھ، آئی ایم کا پریشر، خارجہ پالیسی میں امریکہ کی طرف سے کافی پریشر ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…