میں نے پاکستان کو 2بار بچایا ،ایک بار دھماکہ کر کے اور دوسری بار۔۔۔!!! محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر دل کی باتیں زبان پر لے آئے

  اتوار‬‮ 1 جولائی‬‮ 2018  |  11:46

اسلام آباد (اے ایف پی ) پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ پہلے ایٹمی دھماکہ کر کے، پھر الزامات خود پر لیکر انہوں نے 2مرتبہ پاکستان کو بچایا ، پاکستان کبھی بھی ایٹمی طاقت نہیں بننا چاہتا تھا مگراسے ایٹمی طاقت بننے کیلئے مجبور کر دیاگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان قومی ہیرو مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت میں تبدیل کیا ۔ مغرب اسے خطرناک غدار شخص قرار دیتے ہوئے یہ الزام لگا تا ہے کہ انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی دنیا کے بدمعاش ریاستوں


کو فراہم کی۔ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں ایٹمی طاقت بنا کر ناقابل تسخیر ملک بنانے والے بابائے ایٹمی طاقت قدیر خان کو اس وقت متنازع اور خفگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان پر ایران ، جنوبی کوریا اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا۔2004ء میں انہیں اسلام آباد میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا جب انہوں نے تینوں ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے نیٹ ورک چلانے کا اعتراف کیا۔ گھر میں  نظر بندی کے دوران ڈاکٹر خان کو کینسر کی بیماری لاحق ہوئی اور سرجری کے بعد وہ روبہ صحت ہوئے ، 2009ء میں ان کی گھر میں نظر بندی ختم کی گئی مگر انہیں اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ حکام کو بغیر اطلاع دیئے کہیں نہیں جا سکتے حتیٰ کہ وہ اسلام آباد میں آزادی سے نہیں آجا سکتے تھے ان پر سکیورٹی لگائی تھی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل ، 1936ء کو بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور جب برطانوی راج ختم ہوا اور پاکستان آزاد ہوا تو وہ 1947ء میں پاکستان آگئے انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے 1960ء میں سائنس کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ میٹلر جیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے برلن چلے گئے بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے نیدر لینڈ اور بیلجیئم گئے۔ 81سالہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات میں ایٹمی پروگرام کے لیے یورینئم سینٹری فیوجز کا بلیو پرنٹ حاصل کرنا ہے جو یورینئم کو ایٹمی ہتھیار میں بدلنے کے لئے تھا ، ان پر نیدر لینڈ میں اینگلو ڈچ جرمن نیوکلیئر انجینئرنگ کنسور شیم یورینکو میں کام کے دوران بلیو پرنٹ چورے کرنے کا الزام تھا جو 1976میں پاکستان لایا گیا تھا ، بعد ازاں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں یورینئم افزودگی کے پروگرام کا انچارج بنا دیا۔ 1978ء میں یورینئم افزود گی کرلی گئی تھی اور 1984ء میں پاکستان ایٹمی طاقت بن چکاتھا بس اسکا اعلان باقی تھا یہ بات ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک انٹرویو میں کہی۔ 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں لگائی گئی جس سے پاکستان معیشت کوبری طرح شدید دھچکا لگا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر 2001ء میں اس وقت مصیبت شروع ہوئی جب مبینہ طور پر جنرل پرویز مشرف نے امریکا کے کہنے پر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کی چیئرمین شپ سے ہٹا کر انہیں خصوصی مشیر مقرر کر دیا مگر پاکستان کی ایٹمی اسٹبلشمنٹ کو یہ توقع نہیں تھی کہ پاکستان کے نہایت قابل احترام سائنسدان سے تفتیش کی جائے گی۔ مگر یہ اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیشنل ایٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے خطوط موصول ہوا جس میں پاکستانی سائنسدانوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی فروخت میں ملوث ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1990ء میں انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افیئرز میں تقریر کے دوران کہا کہ انہوں نے پوری دنیا گھوم کر ایک ایک پر زہ خریدا کیونکہ ہر ایک پر زہ اور آلہ پاکستان میں بنانا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کو بچایاہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے انہیں معاف کر دیا لیکن پھر دوبارہ باتیں دہرائیں گئیں۔ 2008ء میں نظر بندی کے دوران اے ایف پی کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’’ایک مرتبہ میں نے پاکستان کو بچایا جب ایٹمی طاقت بنایا اور دوسری مرتبہ میں نے پاکستان کو بچایا جب میں نے تمام الزامات اپنے پر لے کر اعتراف جرم کیا‘‘ ان کا کہنا ہے کہ 1998ء میں ایٹمی طاقت بن کر پاکستان نے اپنے لئے بہت بڑی حفاظت کی ۔ یہ بھارت کے جواب میں تھا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’پاکستان کبھی بھی ایٹمی طاقت نہیں بننا چاہتا تھا مگر اسے ایٹمی طاقت بننے پر مجبور کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنی تحریک تحفظ پاکستان بنائی جس کا مقصد پاکستان کو بچانا تھا مگر جب ان کے ایک سو گیارہ امیدواروں میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہوا تو انہوں نے سیاسی جماعت تحلیل کر دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بیان دے کر ملک میں ہلچل مچادی جب انہوں نے کہا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کہنے پر دو ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی۔ انہوں نے ممالک کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی یہ بتایا کہ کب فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ اکیلے نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ قانونی طور پر وزیراعظم کے احکامات ماننے کے پابند تھے تاہم بے نظیر بھٹو نے اس کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا تھا ، کوئی بھی تنازع ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شہرت کو دھچکا نہیں پہنچا سکا گو کہ الزامات ، تنازعات کئی سال چلتے رہے ، اب وہ سائنسی تعلیم اور اس کی اقدار کی تعلیم دیتے ہیں ، پورے ملک میں کئی اسکول ، یونیورسٹیز ، فلاحی ہسپتال کئی ادارے ان کے نام سے منسوب ہیں۔

موضوعات:

loading...