جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا،پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر معروف شخصیت کا تحریک انصاف چھوڑنے کا فیصلہ

datetime 9  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد+کوہاٹ(سی پی پی)پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے پر نواب آف کالا باغ نے پارٹی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نواب آف کالا باغ نے ٹکٹ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔واضح رہے کہ  تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات 2018 کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم میں کئی اہم امیدوار نظر انداز کردیے گئے ہیں جبکہ کئی کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مشروط کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مردان سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی محمد خان اور کوہاٹ سے شہریار آفریدی کی 5 سالہ کارکردگی سے پارٹی قیادت مطمئن نہ ہوسکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماں کو ٹکٹوں کا فیصلہ کارکنوں کی رائے سے مشروط کر دیا گیا ہے اور دونوں رہنماں کو کارکنوں اور حلقے کے عوام کی آرا سامنے آنے پر ٹکٹ دینے   یا نہ دینا کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس حوالے سے پارٹی قیادت سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب سیالکوٹ سے امیدوار فردوس عاشق اعوان کے حلقے میں ان کے ساتھ ایم پی اے کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ذرائع کے مطابق فردوس عاشق جسے ایم پی اے لانا چاہتی ہیں پارٹی قیادت ان سے مطمئن نہیں اس لیے ایم پی اے کا فیصلہ ہونے کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ٹکٹ جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔کراچی سے پی ٹی آئی کے امیدوار عامر لیاقت حسین کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا، جنہیں ٹکٹ جاری کرنے سے متعلق فیصلہ 13 جون کو پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے ترجمان شوکت یوسفزئی بھی صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ سے محروم رہے جب کہ کراچی سے فیصل واڈا کا نام بھی سامنے نہ آ سکا۔پشاور سے تحریک انصاف کے رہنما ارباب نجیب اللہ نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ادھر پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے پی کے 82 کوہاٹ سے جاری کردہ تینوں صوبائی حلقوں کے لئے پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے جاری کردہ ٹکٹوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی کے 82 سے افتخار حسین شاہ کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا گیا جبکہ پی کے 80 کا ٹکٹ اسے دیا گیا،جس کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ہی نہیں ہے ، کوہاٹ میں مجھے میری ٹیم دی جائے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق شہریار آفریدی کے سابق وزیر اعلی کے پی پرویز خٹک کے ساتھ شدید اختلافات ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…