جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نہیں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ اگر یہ کام کیا تو ’’فوج ناراض ہو جائے گی‘‘ نواز شریف کو نااہلی سے قبل کس بات کا خوف تھا؟ حامد میر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سزا یافتہ اراکین اسمبلی کو سپریم کورٹ نے تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سینئر صحافی و کالم نویس حامد میر نے کہا کہ میں نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی ہمیشہ مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ میں اس کو درست نہیں سمجھتا اس لیے کہ کوئی بھی انسان صادق اور امین کے اس معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔

سینئر صحافی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ نواز شریف کو جا کر منائیں کہ اس شق کو آئین سے نکال دیا جائے، سینئر صحافی نے کہا کہ جب میں نے میاں نواز شریف سے جا کر کہا کہ یہ شق کل آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا خیال تھا کہ اگر جنرل ضیاء الحق کی اس ترمیم کو آئین سے نکالا تو آرمی ناراض ہو جائے گی، ملاقات کے آخر میں میاں نواز شریف نے اِن سے کہا کہ اعجاز الحق ناراض ہو جائیں گے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ نواز شریف احتساب کا قانون لے کر آئے اور انہوں نے احتساب بیورو کا چیئرمین سیف الرحمان کو لگا کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا، سینئر صحافی نے کہاکہ نواز شریف کے بیانیے میں سپریم کے اس فیصلے کے بعد مزید شدت آ جائے گی مگر میاں نواز شریف کو بیانیے کی کامیابی کے لیے پہلے اپنی کنفیوژن دور کرنا ہو گی، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک جانب تو اداروں کے خلاف بیان نہ دینے والوں کو ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب آرمی چیف کی تعریف کرنے والے اپنے بھائی شہباز شریف کو پارٹی کا صدر بنا دیتے ہیں۔  آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سزا یافتہ اراکین اسمبلی کو سپریم کورٹ نے تاحیات نا اہل قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سینئر صحافی و کالم نویس حامد میر نے کہا کہ میں نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی ہمیشہ مخالفت کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…