ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پہلے شہباز شریف اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کی خبر‘پھر نواز شریف کی طرف سے اداروں کو پیش کش‘ پھر چیف جسٹس اور وزیراعظم کی ملاقات اور پھر آج جے آئی ٹی سربراہ کااعتراف ،کیایہ تمام واقعات محض اتفاق ہیں؟نوازشریف کا رویہ آج کیوں جارحانہ ہوگیا؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم کی کل کی ملاقات بھی بدقسمتی سے افواہوں کی فیکٹری بن چکی ہے‘ لوگ سرعام کہہ رہے ہیں پہلے میاں شہباز شریف اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کی خبر‘ پھر میاں نواز شریف کی طرف سے اداروں کو مذاکرات کی پیش کش‘

پھر چیف جسٹس اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات اور پھر آج جے آئی ٹی کے سربراہ کی طرف سے نیب کورٹ میں یہ اعتراف کہ ان کے پاس میاں نواز شریف کے بینی فیشل اونر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں‘ افواہ سازوں کا خیال ہے یہ تمام واقعات محض اتفاق نہیں ہو سکتے‘ یہ تاثر اس قدر گہرا ہے کہ اپوزیشن بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ این آر او ہوا تو ہم سڑکوں پر ہوں گے، بعض لوگ نہال ہاشمی کی معافی کو بھی ان اتفاقات کا حصہ قرار دے رہے ہیں لیکن مجھے یہ تھیوری درست نہیں لگتی کیونکہ میرا خیال ہے چیف جسٹس اصولوں پر کمپرومائز نہیں کریں گے اور اگر میاں نواز شریف کو اس ملاقات سے تھوڑا سا بھی آسرا مل رہا ہوتا تو یہ آج چیف جسٹس اور اپنے خلاف کیس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار نہ کرتے، میاں نواز شریف کا یہ رویہ ثابت کر رہا ہے یہ بھی کمپرومائز کے موڈ میں نہیں ہیں‘ باقی رہی وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات تو یہ ملاقات ہونی چاہیے تھی اور یہ ہوتی بھی رہنی چاہیے‘ یہ ملاقاتیں ملک اور سسٹم کیلئے ضروری ہیں ورنہ اداروں کے درمیان فاصلوں سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے اور بہت نقصان ہوگا‘ یہ ملاقات اتنی کنٹرورشل کیوں ہو گئی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ ہم آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر بھی بات کریں گے، فوج اس پریس کانفرنس پر کیوں مجبور ہوئی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…