بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

جس شخص کو خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کے لیے استعمال کیا گیا وہ کون ہے؟ اس کا کس جماعت کے ساتھ تعلق ہے اور مستقبل میں وہ لوگ کیا کرنیوالے ہیں؟ حامد میر نے انتہائی تشویشناک پیش گوئی کر دی

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ جس شخص نے وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف پر سیالکوٹ میں سیاہی پھینکی، اس شخص کا تعلق نئی بنائی گئی مذہبی تنظیم سے ہے اور یہ تنظیم کسی بھی کلین شیو والے بندے کو نہیں چھوڑے گی۔ واضح رہے کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکنے والے شخص کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے

جس میں اس نے کہا کہ میرا نام فیض الرسول ہے اور میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے، میں شروع سے ن لیگ کا ووٹر ہوں اور ہمیشہ ن لیگ کو سپورٹ کیا۔ میں گھر سے سیدھا فیکٹری جاتا ہوں اور فیکٹری سے گھر جاتا ہوں۔ میں شروع سے ہی ان کا ووٹر تھا، فیض الرسول نے کہا کہ یہ لوگ ہر جگہ جا کر بتاتے ہیں کہ یہ سڑک ہم نے بنائی یہ پل ہم نے بنایا، یہ سکول بنایا یہ ہسپتال بنایا، اپنے ترقیاتی کاموں کے بارے میں تو بتاتے ہیں، انہوں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے ختم نبوت پر انہوں نے حملہ کیا، انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ اگر یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں تو اسمبلیوں میں کیوں جاتے ہیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ آپ لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں آپ نے اپنی ڈیوٹی دی آپ اچھے انسان ہوں جنہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی ڈیوٹی دی۔ ان کا فرض بنتا ہے کہ یہ لاکھوں ووٹ لے کر ایک شہر کی ترجمانی کر رہے ہیں کم از کم جو قانون بنا ہے اس کو پڑھ تو لیں اگر انہوں نے پڑھ کر دستخط کیے ہیں تو یہ مجرم ہیں اور اگر انہوں نے اس کو پڑھا ہی نہیں اور دستخط کیے ہیں تو یہ اس سے بڑے مجرم ہیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ پھر تو جو مرضی اس سے کاغذ پر دستخط کروا لے۔ یہ لوگ راجہ ظفرالحق رپورٹ شائع کریں۔ جو جو مجرم ہیں ان کو سزا ملے۔ آج میں نے جرم کیا ہے مجھے مار دیں میرے بیوی بچوں کو مار دیں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ لوگ پبلک میں کسی جگہ بھی جائیں گے ان کے ساتھ ایسا ہی ہو گا۔ جب تک یہ لوگ توبہ نہیں کرتے یہ لوگ عوام میں نہ جائیں۔ فیض الرسول نے کہا کہ محمد عربیؐ کے شیروں نے انہیں کسی جگہ پر نہیں چھوڑنا۔ اس نے کہاکہ مجھے وہ ذات کھینچ کر وہاں لے گئی کہ تم آج گھر نہ جاؤ بلکہ ادھر آؤ۔ میری ماں شوگر کی مریض ہیں انہیں انسولین لگانی ہوتی ہے لیکن میں نہ جا سکا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…