ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب کا قتل اور زیادتی میں کوئی ریکٹ ملوث ہے، مافیا یا پھر سیاسی شخصیت؟ فوج کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے کیا رپورٹ دی؟ حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 28  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سات سالہ زینب کے قاتل عمران علی کو 50 سے زائد لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے، یہ بات سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ عمران علی کو گزشتہ چار سے پانچ سال کے دوران 50 سے زائد لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا، سینئر صحافی حامد نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے عمران علی سے زیادتی کی وہ لوگ بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں۔

حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم عمران علی کے بارے میں اور بھی کچھ چیزیں کہ اس کا تعلق کسی مافیا یا ریکٹ کے ساتھ ہے یا پھر کوئی سیاسی شخصیت اس کی پشت پناہی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ میں آپ کو اس بارے میں بتا دوں کہ اس معاملے کو تمام سویلین ایجنسیز نے بھی تحقیقات کی ہے اور آرمی کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے بھی تحقیقات کی ہیں اور تمام کا ایک ہی موقف ہے کہ زینب کا قاتل یہی شخص ہے اور اس نے اور بچیوں کے ساتھ بھی زیادتی کی ہے۔ دوران گفتگو حامد نے کہا کہ خود ملزم عمران کے ساتھ بھی پچاس دفعہ زیادتی ہو چکی ہے، عمران کے ساتھ پچھلے چار سے پانچ سال میں پچاس مردوں نے زیادتی کی ہے اس کے بعد عمران علی یہ کام آگے شروع کر دیا، انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ملزم عمران علی کا نہ ہی کوئی بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی اس کا کسی مافیا سے تعلق ہے۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ لوگوں پر پولیس پر اعتبار نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق تفتیش کرنے والوں کی تفتیش میں یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ قصور چھوٹے بچوں کے لیے ایک بہت خطرناک جگہ ہے اور زینب کو قتل کرنے والے عمران علی کے ساتھ بھی پچاس لوگوں نے زیادتی کی ہے اور زیادتی کرنے والے لوگ بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران علی کو گزشتہ چار سے پانچ سال کے دوران 50 سے زائد لوگوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…