ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور میں زینب کے قتل پر آنسو بہانے والے مردان کی تین سالہ عاصمہ کے قتل پر خاموش کیوں؟شہباز شریف قصور پہنچ گئے، قاتل پکڑنے کی خوشخبری سنانے کے بجائے مخالفین پر برس پڑے

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کے قتل کی گرفتاری کیلئے جے آئی ٹی اور دیگر ٹیمیں بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، عسکری انٹیلی جنس ایجنسیاں بھرپور معاونت کر رہی ہیں، پنجاب فرانزک لیب بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، دن رات نگرانی کر رہا ہوں، پوری امید ہے کہ قاتل جلد گرفتار کر لیا جائے گا، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،

زینب کے اہل خانہ کے دکھ میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، زینب کے رشتہ دار، محلہ دار اور قریبی عزیز آگے بڑھ کر جے آئی ٹی کی معاونت میں اپنا کردار ادا کریں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری کوششوں کو قبول فرماتے ہوئے ہمیں اپنے نیک مقصد میں کامیاب کرے۔شہباز شریف کی قصور میں میڈیا سے گفتگو۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فرانزک لیب اور نادرا کا بھرپور تعاون حاصل ہے اور افسران نہایت تندہی سے قاتل کو پکڑنے کیلئے سرگرم ہیں۔ قاتل کو پکڑنا اولین ترجیح ہے، غفلت برتنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مردان میں 3سالہ ننھی عاصمہ کیساتھ بھی جنسی زیادتی کے بعد قتل کا انکشاف سامنے آیا ہے جسے بین الاقوامی میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے، باچا خان یونیورسٹی میں مشال خان کا قتل ہو یا ڈیرہ اسماعیل خان میں نوجوان لڑکی کو برہنہ کر کے شہر میں گھمانے کا دردناک واقعہ ہو یہ سب واقعات پورے ملک کیلئے غم کا باعث ہیں مگر جو لوگ آج مال روڈ لاہور میں جمع ہوئے ہیں کیا انہوں نے زینب کے علاوہ ان واقعات پر بھی کبھی دعا کی، ان واقعات میں کیا یہ ان جگہوں پر گئے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ان لوگوں کو دینا چاہئے۔ میں اپنے آپ کو زینب واقعہ میں جوابدہ سمجھتا ہوں، زینب واقعہ پر آکر آنسو بہانے اوردعائیں کرنے والے اب مردان کیوں نہیں جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…