اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ ،پاکستان امریکہ کے سامنے اٹھ کھڑا ہوا، ایسا اعلان کردیا کہ فلسطینی عوام کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

استنبول (آئی این پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ عالمی قوانین کے منافی ہے‘ امریکی فیصلہ عالمی روایات اور ریاستی طرز عمل کے بھی خلاف ہے‘ پاکستانی عوام اور حکومت عالمی برادری کے جذبات میں شامل ہے‘ پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے امریکی اعلان کی مذمت کی‘ فلسطینی عوام گزشتہ ستر سال سے مظالم کا شکار ہیں‘ فلسطینیوں

کے کاروبار تباہ اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی ستر سال سے بھارتی غیر قانونی قبضے میں زندگی گزار رہے ہیں‘ بیت المقدس اسلام کا قبلہ اول ہے‘ ہمیں باہمی اختلافات بھلا کر امریکی فیصلے پر متفقہ مضبوط ردعمل ظاہر کرنا چاہئے۔ بدھ کو خواجہ آصف نے او آئی سی کے وزراء خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس اسلام کا قبلہ اول ہے بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ عالمی قوانین کے منافی ہے امریکی سفارتخانے کی منتقلی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکی فیصلہ عالمی روایات اور ریاستی طرز عمل کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلے کی اقوام عالم مخالفت کررہی ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت بھی عالمی برادری کے جذبات میں شامل ہیں۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے امریکی اعلان کی مذمت کی۔ فلسطینی عوام گزشتہ ستر سال سے مظالم کا شکار ہیں۔ فلسطینیوں کے گھر‘ شہر اور دیہات مقبوضہ ہیں۔ فلسطینیوں کے کاروبار تباہ اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی ستر سال سے بھارتی غیر قانونی قبضے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور حق خود ارادیت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ہمیں باہمی اختلافات بھلا کر امریکی فیصلے پر متفقہ مضبوط ردعمل ظاہر کرنا چاہئے امریکہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عالمی قوانین کا احترام کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…