اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

الیکشن ایکٹ کی آڑ میں ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کس نے کروائی؟ خفیہ ہاتھ بے نقاب کرنے کیلئے اب تک کا سب سے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنا کیس کی آج سماعت کی۔وزیرداخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 15منٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا جس پر وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران وزیرداخلہ نے

عدالت کو بتایا کہ انشااللہ کچھ دیرمیں دھرنا ختم ہو جائے گا، قومی قیادت کی مشاورت سےتحریری معاہدہ کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ ملک اس صورت حال میں آگیا تھا کہ خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔اس موقع پرکمشنر اسلام آباد نےعدالت کو بتایا کہ فیض آباد انٹرچینج کچھ دیرمیں کلیئرہوجائے گا، انہوں نے معاہدے کےنکات عدالت میں پڑھ کرسنائے۔انہوں نے کہا کہ دھرنا مظاہرین اور حکومت میں معاہدہ طے پا گیا ہے جس پرجسٹس شوکت عزیزصدیقی نے کہا کہ انتظامیہ بتائے کہ آپریشن کیوں ناکام ہوا۔جسٹس شوکت عزیز نے ریماکس دیے کہ معاہدےمیں ججزسےمعافی مانگنےکی شق کیوں نہیں ہے، ریاست کا اربوں کا نقصان کرکے آپ ان کومعاف کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں بھی عاشق رسول ﷺ ہوں، ریاست اورآئین سے کھیلنے کی حد ہوتی ہے۔جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ آج کی سماعت کے بعد میں بھی خطرے میں ہوں گا، حق کی باتیں کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔عدالت نے استفسار کیا کہ مظاہرین کے پاس آنسوگیس ماسک،اسلحہ کہاں سےآیا جبکہ عدالت نے فیض آباد دھرنے پرہائی کورٹ نے2 کمیٹیاں تشکیل دے دیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی پہلی کمیٹی جوائنٹ ڈی جی آئی بی انوارخان کی سربراہی میں کام کرے گی ۔ کمیٹی پولیس آپریشن کی ناکامی کی وجوہات سےعدالت کو آگاہ کرے گی۔دوسری کمیٹی بیرسٹرظفر اللہ کی سربراہی میں قائم کی گئی،

کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی۔عدالت نے استفسار کیا کہ بیرسٹرظفر اللہ بتائیں کس کے کہنے پرالیکشن ایکٹ میں تبدیلی کی گئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نےمعاہدے کی مستند کاپی آج طلب کرلی جبکہ عدالت نے جمعرات تک تمام رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے فیض آباد دھرنا سے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر

وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کوتوہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔جسٹس شوکت عزیزصدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت کی ناکامی ہے ریاست ناکام ہونے نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد وفاقی حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک کے درمیان معاملات طے پاگئے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…