پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

’’آرمی چیف اب یہ کام کر کے دکھائیں‘‘ حامد میرنے جنرل باجوہ کو بڑا چیلنج دیدیا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج احتساب عدالت کے باہر جو کچھ ہوا اس کو سب نے دیکھا اور کئی سوالات کو بھی جنم دیا۔سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے نجی ٹی وی جیونیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج میڈیااوروزرا کوعدالتی احاطے میں جانے نہ دے کررینجرز کے بریگیڈیئر نے آئین پاکستان کو اپنے بوٹ کے نیچے مسل ڈالا ہے ،اس کے بعد ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں بتا یا جائے کہ وہ بریگیڈیئر صاحب نے

کس کے حکم پر یہ سارا کام کیا؟پاکستان کے دشمنوں کے بیانیے کو آج عملی جامہ پہنا کر کچھ لوگوں نے سب کے سامنے پیش کردیا ہے ،دشمنوں کا بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست ہے،پاکستان میں ایک قانون نہیں بلکہ دو قانون ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس چیز کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے چیف کمشنر اسلام آباد کے احکامات ماننے سے انکار کیا اور جوڈیشل کمپلیکس کو ٹیک اوورکیا اور میڈیا کوبھی اندرجانے کی اجازت نہیں دی اگر رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ یہ ادارے یرغمال ہیں تو ہم اس کی تردید نہیں کر سکتے کیونکہ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ نہ صرف عدالت بلکہ میڈ یا بھی یرغمال تھا ۔حامد میر نے کہا کہ 6ستمبر کو جی ایچ کیو میں جو یوم دفاع کی تقریب ہو ئی تھی جس میں آرمی چیف جنرل  نے کہاکہ ہم قانون کی بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،اگر ایسا ہی ہے تو رینجرز کے وہ بریگیڈیئر جنہوں نے آج جوڈیشل کمپلیکس کو زبردستی ٹیک اوور کیا ،انہو ں نے قانون کی بالا دستی کو خود ہی توڑا ۔انہوں نے کہا کہ اب سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کا احتساب پیچھے چلا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…