بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

لاہورمیں ایمرجنسی نافذ،پاک فوج حرکت میں آگئی،ہلاکتوں کی تعداد میں انتہائی تشویشناک اضافہ

datetime 24  جولائی  2017 |

لاہور( این این آئی)لاہورمیں ایمرجنسی نافذ،پاک فوج حرکت میں آگئی،ہلاکتوں کی تعداد میں انتہائی تشویشناک اضافہ،مبینہ خود کش دھماکے سے 26 افراد شہید جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،تفصیلات کے مطابق فیروز پور روڈ پر دھماکے کے بعد تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ۔دھماکے کے فوری بعد

حکومت کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ صاحبان کو ایمر جنسی کے نفاذ کے احکامات جاری کئے گئے ۔ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے چھٹی کر کے گھروں کو جانے والے تمام ڈاکٹروں کو ڈیوٹی پر واپس بلا لیا گیا جبکہ ایمر جنسی وارڈز میں بیڈز خالی کرا کے جان بچانے والی ادویات کا ذخیرہ کر لیا گیا ۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے حادثہ پہنچ گئیں اور ایمبیولینسوں کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے بعض افراد کی حالت نازک ہے، جنھیں بھرپور طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کے پیش نظر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنرل ہسپتال میں 38 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکا خود کش لگتا ہے۔ لاہور کے علاقے فیروز پور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے قریب خود کش دھماکے سے 26 افراد شہید جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جن کی شناخت ہو گئی ہے۔ شہید پولیس والوں میں سب انسپکٹر ریاض، اے ایس آئی فیاض اور 7 کانسٹیبل شامل ہیں۔ صوبائی دارلحکومت لاہور کے علاقہ فیروز پور روڈ پر دھماکے کے بعد میٹرو بس سروس کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ۔ ارفع کریم ٹاور کے قریب دھماکے کے بعد انتظامیہ نے میٹرو بس سروس کو معطل کر کے تمام بسوں کو کھڑا کر دیا گیا ۔فیروز پور روڈ پر ہونے والا دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ۔دھماکے کی زد میں آکر ایک گاڑی اور متعددموٹر سائیکلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ فرانزک ماہرین نے تباہ ہونے والی گاڑیوں سے بھی شواہد اکٹھے کئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…