جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وزیر اعظم نواز شریف نے آخر کار ہاتھ کھڑے کر دیئے، ملکی سیاست میں بھونچال

datetime 19  جولائی  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) پانامہ کیس میں استعفیٰ کے معاملہ پر وزیراعظم بالآخر ’’ ہینڈز اپ‘‘ ہو گئے۔ رواں ہفتہ پارٹی سے نئے وزیراعظم کے لئے نام فائنل کر دیا جائیگا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کانام فائنل ہوتے ہی فارورڈ بلاک بنانے کے لئے لنگوٹ کس لئے ہیں،

معلومات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو آئینی مہارین نے مشورہ دیاہے کہ انہیں اندازہ ہو چکا ہے سپریم کورٹ کسی صورت میں کلین چٹ نہیں دے گی۔عدالتی احکامات کے بعد عہدہ سے مستعفی ہونے کا عوام پر اثر نہیں پڑیگا بلکہ الٹا عام انتخابات میں بھی غلط تاثر جائے گا۔ اپنے عدالتی فیصلہ سے قبل عہدہ سے استعفیٰ دیا جائے تو پھر عام انتخابات، 2018ء میں الیکشن مہم میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے آئینی ماہرین سے رائے طلب کی کہ اگر مقدمہ نیب یا ٹرائل کورٹ میں جاتا ہے تو پھر بھی استعفیٰ دینا پڑے گا۔قانون دانوں نے کہا کہ نیب ٹرائل کورٹ سے عہدہ کی مزید ہزیمت ہو گی۔ اور اپوزیشن کے نعرہ کو تقویت ہو گی۔ سوموار اور منگل کو وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے بھی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا مگر وفاقی وزیر داخلہ کی طبیعت ناسازی کے باعث ملاقات نہیں ہو پائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کے بھی اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے اور وہ نئے وزیراعظم کے لئے نام نامزدگی کے بعد کھڑا کریں گے۔وزریاعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق نئے وزریاعظم کے لئے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے بعد تین ناموں پر قریب سے غور کیا جا رہا ہے جن میں سپیکر ایاز صادق، خرم دستگیر اور شاہد خاقان عباسی کے نام شامل ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کے ذارئع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مستعفی ہونے کے لئے حتمی فیصلہ کر لیا ہے بس اعلان ہونا باقی ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق رواں ہفتہ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے بعد ہوا کے رخ کا تعین ہو جائے گا جس کے بعد اگلے ہفتہ حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

تاہم وزریاعظم کے فیملی ذرائع کے مطابق محمد نواز شریف کو معلوم ہے کہ نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے بعد اپنی پارٹی کو متحدہ کرنے کے لئے بھی پے در پے اقدامات کرنا ہونگے۔ اس حوالے سے انہوں نے ملک بھر سے ایم این ایز کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی فہرستیں بھی طلب کر لی ہیں تاکہ انہیں فنڈز جاری کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا جا سکے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…