جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف کا یہ حال کیوں ہوا؟مولانافضل الرحمان کیا ’’کارروائی‘‘ کرنا چاہتے ہیں؟حکومت سپریم کورٹ کیخلاف کیا کرنیوالی ہے؟آصف علی زرداری کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  جولائی  2017 |

لاہور(آئی این پی) پیپلزپارٹی پارلیمنٹر ین کے سر براہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشر یف استعفیٰ دیں ‘پار لیمنٹ چلنی چاہیے کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں‘ نوازشر یف کی سیاسی شہید ہونے کی خواہش پوری نہیں ہوگی ‘نوازشر یف اور انکی جماعت سپر یم کورٹ کے اختیارا ت کم کر نے کیلئے آرڈننس لانے کے بارے میں بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے ‘ مولانا فضل الر حمن کا نوازشر یف کو ’’ڈٹ ‘‘جانے کا مشورہ ہی مولانا فضل الر حمن کی’’ سیاست‘‘ہے ‘

نوازشر یف کا جو حال ہو رہا ہے وہ کوئی سازش نہیں بلکہ وہ اپنے کاموں کی وجہ سے ایسے مسائل کا شکا ر ہے ۔ اتوار کے روز اپنے ایک انٹر ویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ (ن) لیگ جو مر ضی کر لیں وہ اپنے بچاؤکیلئے سپر یم کورٹ کے اختیارات کو کم کر نے کیلئے قانون سازی نہیں کر سکیں گے کیونکہ پار لیمنٹ میں اپوزیشن کیساتھ ساتھ سڑکوں پر وکلاء اور سول سوسائٹی کا بھی سخت دباؤ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعلی شہبازشر یف کی حکومت ہے جو نوازشر یف کے بھائی ہے اس لیے اگر نوازشر یف کے جیل جانے کی نوبت آتی ہے تو انکا بھائی رائے ونڈ جاتی عمرہ کو بھی سب جیل قرار دے سکتے ہیں مگر اب جے آئی ٹی کی رپورٹ سپر یم کورٹ میں آچکی ہے دیکھتے ہیں اب سپر یم کورٹ میں اس کیس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں نوازشر یف سے استعفیٰ کے مطالبے پر متفق ہیں اس لیے نوازشریف کو چاہیے وہ عہدے سے استعفیٰ دیدیں اور اپنی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنادیں ۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زداری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب نوازشر یف وزیر اعظم کے عہدے سے الگ ہوں گے (ن) لیگ میں ٹوٹ پھوٹ ہوگی مگر کچھ لوگ (ن) لیگ کو چھوڑ کر بھی جاسکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی کر پشن اور غیر ملکی قر ضوں سے آنیوالے پیسے کہاں گئے ہیں اسکی شفاف تحقیقات تب ہی ہوگی جب نوازشر یف اقتدار میں نہیں ہوں گے کیونکہ انکی موجودگی میں شفاف احتساب نہیں ہوسکتا ۔ آصف علی زداری نے کہا کہ مولانا فضل الر حمن کی اپنی سیاست ہے اور ہماری اپنی سیاست ہے لیکن جہاں تک مولانا فضل الر حمن کا نوازشر یف کو استعفیٰ کی بجائے ڈٹ جانے کا مشورہ ہے تو یہی مولانا فضل الر حمن کی سیاست ہے کہ مولانا فضل الر حمن سیاست میں رہے لیکن نوازشر یف کے پاس اب استعفیٰ کے سواکوئی آپشن باقی نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…