بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

40سال سے پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا ،اب کیا ہونیوالا ہے؟آبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 16  جولائی  2017 |

کراچی(این این آئی)آبی ماہرین نے کہا ہے کہ چالیس سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا ، تاہم اس عرصے میں ملکی آبادی میں اضافے کے پیش نظر غذائی اور پانی کی ضروریات بے تحاشا بڑھیں ، ان حالات میں ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کرنا اس ملک کا سب بڑا المیہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ سال کے 6 مہینے ہمیں پانی کی قلت اور باقی مہینوں میں سیلابی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین نےکہا کہ پاکستان وافر پانی کے مضمرات سے تو اثرانداز ہو رہا ہے تاہم اس کے ثمرات سے محروم ہے ،

موجودہ سیلابی سیزن میں بپھرے ہوئے دریاں کو قابو کرنے کا واحد طریقہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر ہے ۔اس ضمن میں معروف آبی ماہر اور سابق سیکرٹری زراعت و آبپاشی کیپٹن(ر)عارف ندیم نے بتایا کہ سال میں 365 دن میں صرف 70 دن وافر پانی دستیاب ہوتا ہے ، تاہم بد قسمتی سے ہر برس 30 سے 35 ملین ایکڑ فٹ میٹھا پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے ، موجودہ سیلابی سیزن میں ایک طرف بارشوں سے دریاں میں طغیانی ہے جبکہ پہاڑوں پر برف پگھلنے سے بھی وافر پانی کی دستیابی ہے لیکن آبی ذخائر موجود نہ ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہایت محدود ہے ۔اگر بھاشا ڈیم اور داسو جیسے آبی منصوبے بنے ہوتے تو پاکستان کو خشک سالی کے موسم میں بھی پانی کی قلت کا سامنا نہ کرناپڑتا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے چاول بیلٹ کو فائدہ ہو گا تاہم جنوبی پنجاب میں زیر کاشت کپاس کی فصل پر بیماریوں کے حملے کا خدشہ ہے جبکہ کھیت میں پانی کھڑا ہونے سے پودوں کو نقصان ہوگا ۔ اس حوالے سے فارمرز ایسوسی ایٹس پاکستان کے ڈائریکٹر حامد ملہی نے کہا کہ اس وقت دریائے کابل میں سیلاب ہے تاہم اس پانی کو روکنے کا ہمارے پاس کوئی نظام موجود نہیں ، علاوہ ازیں پرانے ڈیموں میں سلٹ جمع ہونے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی بہت کم ہو چکی ہے کیونکہ گزشتہ 42 برسوں میں ملک میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا ۔ پاکستان زرعی ملک ہے اور معیشت کی بہتری زراعت سے وابستہ ہے جس کی بہتری کیلئے پانی نہایت اہم ہے ، حکومت کو جنگی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر کیلئے اقدامات کرنا ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…