بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سی پیک منصوبوں کے ذریعے ساڑھے 4 ارب ڈالرز ملک سے باہر جاسکتے ہیں، آئی ایم ایف نے خبردار کردیا

datetime 16  جولائی  2017 |

کراچی(آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ 2024 تک پاک150چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے ذریعے ساڑھے 4 ارب ڈالرز ملک سے باہر جاسکتے ہیں جبکہ منصوبے کے تحت برآمدات کے فوائد وقت کے ساتھ ساتھ سلسلہ وار حاصل ہوں گے اور اس گیپ کو کم کرنا بھی پالیسی کا ایک بڑا چیلنج ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے پہلا چیلنج برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بنانا ہے جو منصوبوں کے فوائد کے باہر جانے میں اضافے کو روکنے کے لیے اہم ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے تجارتی ماحول کی بہتری اور مقابلے کا ماحول ہونا لازمی ہے، تاکہ توانائی کی سپلائی میں اضافے اور ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا جاسکے، جو سی پیک کے منصوبوں سے حاصل ہوں گے۔دوسرا بڑا چیلنج توانائی کی تقسیم کے سلسلے میں مکمل قیمت کی وصولی ہے، ایک ایسے ماحول میں جہاں توانائی کی تقسیم میں نقصان (loses) ہونے کا اندیشہ زیادہ ہو وہاں توانائی کی پیداوار میں مزید اضافے کے نتیجے میں نہ صرف مالی لاگت اور گردشی قرضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ توانائی کے طویل المدت نئے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ وصولیوں کے عمل کے لیے مخصوص راستہ اختیار کرنے میں کچھ رکاٹیں ہیں لیکن ساتھ ہی میٹرنگ اور وصولیوں کے لیے ایک مضبوط اور ریگولیٹری فریم ورک بنانے کے لیے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری پر زور دیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ مراعات دینے کے بجائے حکومت سرمایہ کاری کے سلسلے میں ٹیکسوں میں یکسانیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے بیرونی معاہدوں اور ادائیگیوں کے رجحانات میں توازن کو بھی یقینی بنائے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی پیک کے منصوبوں کا پاکستان کی معیشت پر اچھا اثر ہو سکتا ہے، یہ بھی کہا گیا کہ ان منصوبوں کے باعث ملکی جی ڈی پی 2017 تک 2 ارب ڈالرز جبکہ 2024 تک 7 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…