جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پانامہ کیس ،جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ،سپریم کورٹ نے حکم جاری کردیا

datetime 7  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی جبکہ سپریم کورٹ نے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے پر جے آئی ٹی سے جواب طلب کرلیا،سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیئے کہ وقت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے،دوماہ سے ایک دن بھی زیادہ نہیں دے سکتے وقت اور مشکلات کو دیکھ کر معاملات آگے بڑھائیں۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ درخواست دائر کرنا چاہتا تھا۔عدالت اجازت دے تو ابھی دائر کردیتا ہوں ۔ویڈیوریکارڈ کی قانون میں اجازت نہیں ۔عدالت ویڈیو ریکارڈنگ پر پابندی عائد کرے۔ویڈیو ریکارڈنگ سے پیش ہونے والے پر دباؤ پڑتا ہے۔جے آئی ٹی تصویر لیک ہونے کی ذمہ دار ہے ۔عدالت معاملے پر کمیشن تشکیل دے۔جسٹس اعجاز لاحسن نے کہاکہ یہ ویڈیو ریکارڈنگ نہیں سکرین شاٹ تھا۔خواجہ حارث نے کہا کہ تمام معاملہ جے آئی ٹی کے کنٹرول میں ہے۔عدالت نے حسین نواز کی درخواست پر جے آئی ٹی سے جواب طلب کرلیا۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ تحقیقات کی ضرورت ہوئی تو دیکھیں گے۔سماعت کے دوران جے آئی ٹی نے اپنی پیشرفت رپورٹ پیش کی۔رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ججز نے مشاورت کی۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ نے پہلی رپورٹ میں مسائل سے متعلق آگاہ کیا تھا۔دوسری رپورٹ میں بھی ایسا ہی ظاہر کیا گیا۔مسائل سے متعلق الگ درخواست دائر کریں ۔تحقیقات میں جو مسائل ہیں۔آگاہ کریں دو ماہ سے ایک دن بھی زیادہ نہیں دے سکتے ۔وقت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔وقت اور مشکلات کو دیکھ کرمعاملات آگے بڑھائیں۔عدالت نے کہا کہ تحقیقات درست سمت میں جاری ہیں۔تحقیقات کو ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے ۔جے آئی ٹی کی سربراہ نے بعض مسائل کی نشاندہی کی۔رپورٹ سیل کرکے رجسٹرار کو جمع کرائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…