جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاک افغان سرحد،پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

datetime 26  اپریل‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کیلئے تعاون میں سیاسی تقسیم کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا،ملک میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری کا سہرا تمام فریقوں کو جاتا ہے،ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں،موجودہ حکومت نے امن و امان کیلئے دہشتگردوں سے مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا،8ماہ تک جاری رہنے والے مذاکراتی عمل کا کوئی نتیجہ نہ نکلا

چوہدری نثار علی خان نے کہا  کہ،دہشتگردوں کی نقل و حمل روکنے کیلئے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیااور سرحد پر سفری دستاویزات کو لازمی قرار دیا،2020تک مغربی سرحد پر چار کراسنگ پوائنٹس شامل کئے جائیں گے،آئندہ دو سے تین سال میں سرحد پر موثر نگرانی کا نظام قائم کردیا جائے گا، پرعزم سول سرونٹس قیادت کے وژن پر عملدرآمد کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں،سینئر بیوروکریسی کی کارکردگی اور صلاحیت سے عوام کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں۔وہ منگل کو 106ویں نیشنل مینجمنٹ کورٹس کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سول سروس افسران خدمات کی فراہمی اور کام کے ماحول کو بہترین بنائیں،سول سروس حکام سرکاری اداروں میں قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں،افسران اپنی کارکردگی سے جونیئرافسروں کیلئے مثال بنیں۔انہوں نے کہا کہ پرعزم سول سرونٹس قیادت کے وژن پر عملدرآمد کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں،سینئر بیوروکریسی کی کارکردگی اور صلاحیت سے عوام کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں،حالیہ برسوں میں ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے،امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں حکومت،سیکیورٹی فورسز کی مربوط کوششیں شامل ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ ملکی سلامتی کیلئے تعاون میں سیاسی تقسیم کو کبھی حائل نہیں ہونے دیا،

صوبائی حکومتوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بھرپور تعاون فراہم کیا،ملک میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری کا سہرا تمام فریقوں کو جاتا ہے،ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں،پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے،موجودہ حکومت نے امن و امان کیلئے دہشتگردوں سے مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا،8ماہ تک جاری رہنے والے مذاکراتی عمل کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔وزیرداخلہ نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے عملی اقدامات میں نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے،دہشتگردوں کی نقل و حمل روکنے کیلئے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا موجودہ حکومت نے سرحد پر سفری دستاویزات کو لازمی قرار دیا،2020تک مغربی سرحد پر چار کراسنگ پوائنٹس شامل کئے جائیں گے،آئندہ دو سے تین سال میں سرحد پر موثر نگرانی کا نظام قائم کردیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…