پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

ڈان لیکس،اپنے بیان پر قائم ہوں ،ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس سے تعلق نہیں،چوہدری نثارنے جواب میں بہت کچھ کہہ دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اپنے اس بیان پر قائم ہوں کہ ڈان لیکس کی سفارشات مرتب ہونے میں تاخیر کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔،ڈی جی آئی ایس پی آر کا نہ تو کمیٹی سے تعلق ہے اور نہ وہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی، اگر شروع میں ہی کمیٹی کی سفارشات پر سب اراکین کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کمیٹی کو اپنی حتمی

رپورٹ مرتب کرنے میں پانچ مہینے سے زیادہ کیوں لگتے ۔پیر کو اپنے بیان میں وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاکہ میں اپنے اس بیان پر قائم ہوں کہ ڈان لیکس کی سفارشات مرتب ہونے میں تاخیر کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا نہ تو کمیٹی سے تعلق ہے اور نہ وہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے قیام کے وقت جسٹس عامر رضا خان نے اسکی سر براہی اس شرط پر قبول کی کہ وہ صرف اس وقت کمیٹی کی رپورٹ پر دستخط کریں کے جس پر سب کا اتفاق رائے طے پائے گا۔انھوں نے کہاکہ اگر شروع میں ہی کمیٹی کی سفارشات پر سب اراکین کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں پانچ مہینے سے زیادہ کیوں لگتے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا نہ تو کمیٹی سے تعلق ہے اور نہ وہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے قیام کے وقت جسٹس عامر رضا خان نے اسکی سر براہی اس شرط پر قبول کی کہ وہ صرف اس وقت کمیٹی کی رپورٹ پر دستخط کریں کے جس پر سب کا اتفاق رائے طے پائے گاجس پر سب کا اتفاق رائے طے پائے گا۔انھوں نے کہاکہ اگر شروع میں ہی کمیٹی کی سفارشات پر سب اراکین کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں پانچ مہینے سے زیادہ کیوں لگتے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…