جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاک افغان بارڈ ،فیصلہ ہوگیا،کام شروع،آرمی چیف نے بڑا اعلان کردیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی )آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ پاک فوج مادر وطن کی حفاظت اوردفاع کیلئے ہر ممکن وسائل استعمال کرے گی،ایک بہتر منظم ،محفوظ اور پرامن سرحد دونوں برادر ممالک کے مفادباہمی میں ہے ،ملک کو فسادیوں سے پاک کرنے کی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے ،پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اوراس سلسلے میں باجوڑ اور

مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے ہماری ترجیح ہیں،فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے۔ ہفتہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مہمند اور اورکزئی ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقے کا دورہ کیا جہاں آرمی چیف کو سرحدی سیکیورٹی انتظامات ،سرحد پار سے حالیہ دہشت گردحملوں اور دہشتگردی کے خطرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔آرمی چیف نے سوران اور کلایا میں جوانوں سے ملاقات کی اور ان کے عظیم جذبے، آپریشنل تیاریوں اورسرحد پار سے حالیہ حملوں پر موثر جواب کو سراہا ۔آرمی چیف نے اہم دہشت گرد سمیت پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت اور آپریشن کے دوران میجر مدثر اوردو دیگر سپاہیوں کی شہادت کو سراہا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ملک کو فسادیوں سے پاک کرنے کی کوششوں میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اوراس سلسلے میں باجوڑ اور مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقے ہماری ترجیح ہیں ۔سرحد پر نگرانی کیلئے جدید آلات استعمال کر رہے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ فضائی نگرانی بھی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج مادر وطن کی حفاظت اوردفاع کیلئے ہر ممکن وسائل استعمال کرے گی ۔افغان حکام کے

ساتھ دوطرفہ سرحدی سیکورٹی میکنزم تیار کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔انھوں نے کہاکہ ایک بہتر منظم ،محفوظ اور پرامن سرحد دونوں برادر ممالک کے مفادباہمی میں ہے جنھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔آرمی چیف نے کہاکہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا قومی مفاد میں ہے ۔علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے تیزی سے ترقیاتی کام بھی جاری ہیں۔اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے استقبال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…