جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ہاں!راحیل شریف نے میرے لئے یہ کام کیا،پرویزمشرف نے بڑا اعتراف کرلیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

دبئی(آئی این پی )آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ وسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکی اڈوں میں پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی ،امریکی اس معاملے میں بہت سخت تھے ، ملک کو گنوا دینا کوئی بہادری نہیں ہوتی ،شاہ عبداللہ نے شریف برادران کو جانے دینے کا کہا ،شہباز شریف کیلئے میرے دل میں نرم گوشہ تھا ، سعودی عرب کی طرف سے ہمارے معاملات میں

کوئی مداخلت نہیں تھی ، زرداری حکومت کو امریکہ سے کوئی خطرہ نہیں تھا پھر بھی وہ امریکیوں کو ویزے جاری کرتے رہے ۔وہ جمعہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں تھی ،شہباز شریف کیلئے میرے دل میں نرم گوشہ تھا ،شاہ عبداللہ نے شریف برادران کو جانے دینے کا کہا تھا۔پرویز مشرف نے کہا کہ پا کستان میں امریکی اڈوں میں پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی ،امریکی اس معاملے میں بہت سخت تھے ، ملک کو گنوا دینا کوئی بہادری نہیں ہوتی ۔سابق صدر نے کہا کہ زرداری حکومت کو امریکہ سے خطرہ نہیں تھا اور حسین حقانی پر بھی کوئی دباؤ نہیں تھا ،ان کا کردار تو ایک ڈاکیے کا تھا ، پیپلزپارٹی کی حکومت نے امریکیوں کو دباؤ کے بغیر ہی ویزے جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کی اجازت سے باہر گیا، بدقسمتی سے ملک میں صرف طاقتور کو ہی انصاف ملتا ہے ،میرے ساتھ نا انصافی ہورہی تھی جس وجہ سے جنرل راحیل شریف نے میرے باہر جانے میں مدد کی ، اس ملک میں صرف اسی کو انصاف مل سکتا ہے جس کے پیچھے پاور ہو یا کوئی طاقت ور ادارہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس ملک سے باہر کوئی پراپرٹی نہیں تھی اس لئے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے 2009 میں میرے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائے ، ان کے ساتھ میرا

تعلق بھائیوں کی طرح ہے ۔پرویز مشرف نے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملنے کی خواہش میں نے ظاہر نہیں کی ، فاروق ستار خود مجھ سے ملنے آئے تھے ، میں علاقائی سیاست میں نہیں پڑنا چاہتا اور نہ ہی میری وزیراعظم بننے کی خواہش ہے ،میں پاکستان کا مستقبل خطرے میں دیکھ رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ مجھے مستقبل میں ڈکٹیٹر کے نام سے یاد کیا جائے گا مگر میں ڈکٹیڑ نہیں تھا میں نے پاکستان کو ترقی دی اور عوام کو حوصلہ دیا ،ڈکٹیٹر شپ تو اب ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…