جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم ،پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی اور جے یو آئی(ف) کیا کرنیوالے ہیں؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) فوجی عدالتوں کے مخالف چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کو اس ان عدالتوں سے متعلق آئینی ترمیم کے بل نے امتحان میں ڈال دیا، بل کو منظوری کے لیے ایوان بالا میں پیش کیے جانے کے وقت میاں رضا ربانیایوان بالاکے اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے جب کہ دہشت گردی کے معاملے کو صرف مسلک مزہب اور فرقہ تک محدود کرنے پر جماعت اسلامی پاکستان اور جمعیت علماء اسلام (ف) دونوں بل میں

ترامیم لائیں گی اکثریت کی طرف سے ان کو پزیرائی نہ ملنے پر ترمیم کے حق میں رائے شماری کے وقت ہی ہنگامی طور پر مخالفت کی حکمت ظے کی جائے گی غیرجانبدار رہنے یا بائیکاٹ کرنے دونوں آپشنز پر غور کیا جائے گا اس ترمیم کی منظوری کے موقع پر سینیٹ میں غیرمعمولی صورتحال متوقع ہیخیال رہے کہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے 17 مارچ کو سینیٹ اجلاس کی کارروائی چلانے کے دوران فوجی عدالتوں کی دوسال کی بحالی کے لئے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اس بارے آئینی ترمیم کے خلاف سخت ریمارکس بھی دیئے اورخدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ 2019 سے بھی آگے جا سکتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ رضا ربانی فوجی عدالتوں کے سخت مخالف رہے ہیں، 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت آبدیدہ ہوتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف ووٹ دینے پر شرمندہ ہیں، وہ گزشتہ 12 سال سے سینیٹ میں ہیں اور اپنے ضمیر کے خلاف پہلی بار ووٹ دیا۔رپورٹس کے مطابق اس آئینی ترمیم کے واپس ایوان بالا میں پیش ہونے کے موقع پر میاں رضا ربانی کرسی صدارت چھوڑ دیں گے اور فوجی عدالتوں کی مدت میں مزیددوسالوں کی توسیع کی آئینی ترمیم آنے کے موقع پر ڈپٹی چیرمین سینیٹ مولانا عبد الغفور حیدری یا پینل آف پیرزائینڈنگ افسران کے رکن کی جانب سے اجلاس کی صدارت متوقع ہے ادھر حکومتی

چیف وہیپ نے پارلیمنٹ میں پارٹی پوزیشن کی رپورٹ بھی تیار کر لی ہے ۔قومی اسمبلی میں کل 342 اراکین ہیں، بل کی منظوری کے لیے حکومت کو 228 ووٹوں یعنی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے، جب کہ سینیٹ کے 104 اراکین میں سے حکومت کو 70 سینیٹرز کی حمایت درکار ہوگی اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کے نتیجہ میں قومی اسمبلی سینیٹ میں ترمیم کو بغیر کسی مشکلات کا سامنا کئے بغیر

منظور کرلیا جائے گا دینی جماعتوں کی بھی پارلیمینٹ میں نمائندگی ہے اس رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں وفاقی حکمران جماعت کے 188 اراکین ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کے 47، تحریک انصاف کے 33 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 24 اراکین ہیں۔سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 27، حکمران جماعت کے 26، تحریک انصاف کے 7 اور ایم کیو ایم کے 8 قانون ساز موجود ہیں اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان اور

جمعیت علماء اسلام (ف) کے بھی دونوں ایوانوں میں نمائندگی ہے دینی جماعتیں بل میں ترامیم لائیں گی اکثریت کی طرف سے ان کو پزیرائی نہ ملنے پر ترمیم کے حق میں رائے شماری کے وقت ہی ہنگامی طور پر یہ جماعتیں مخالفت کی حکمت ظے کریں گی ان میں ایوان میں غیرجانبدار رہنے یا بائیکاٹ کرنے دونوں آپشنز پر غور کیا جائے گا دینی جماعتوں کی طرف سے ترامیم کا ایجنڈا دے دیا گیا ہے ۔ حکومت کو بل کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کی ضرورت پڑے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…