جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

آئندہ کتنے گھنٹوں میں منگلا اور تربیلا ڈیم مکمل طور پر خالی ہو جائیں گے؟

datetime 10  مارچ‬‮  2017 |

لاہور ( آن لائن ) پاکستان میں موسم سرما کے دوران توقع سے کم بارشوں کے باعث ملک کے دونوں بڑے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور آئندہ 36 گھنٹوں میں تربیلا اورمنگلا خالی ہو جائیں گے۔ میڈیا رپو رٹ میںانکشاف ہوا ہے کہ ایک طرف ڈیم خالی ہونے کے قریب تر پہنچ گئے ہیں تو دوسری طرف ہم نے کالا باغ یا کوئی اضافی ڈیم دستیاب نہ ہونے کے باعث رواں واٹر ائر 2016-17 کے فلڈ سیزن میں دو بڑے ڈیموں

کے برابر 12 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر کی نذر کردیا۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ رواں ربیع سیزن میں گندم اور دیگر فصلوں کے لئے پانی کی قلت 19 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے ڈیموں کے جلد خالی ہونے کے باعث خریف سیزن میں کپاس کی بوائی کے لئے پنجاب اور سندھ کو نہری پانی کی قلت کے لحاظ سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور دونوں صوبوں کے لئے جمعرات کو منگلا ڈیم سے پانی کی فراہمی 28 ہزار کیوسک سے کم کرکے 22 ہزار کیوسک اورتربیلا ڈیم سے 32 ہزار کیوسک سے کم کرکے 28 ہزار کیوسک کردی گئی ہے۔وزارت پانی و بجلی کے حکام نے بتایا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ صرف 30 ہزار ایکڑ فٹ اور منگلا میں 40 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے جس کے باعث دونوں ڈیموں میں پانی کی سطح ہفتے کے روز ڈیڈ لیول تک گر جائے گی جس کے بعد صوبوں کو روزانہ کی بنیاد پر دریاؤں میں بہنے والے پانی کی تقسیم ہوگی۔ ارسا کے چیئرمین راؤ ارشاد احمد نے گفتگو میں بتایا ہے کہ یکم اپریل کو شروع ہونے والے ابتدائی خریف میں نہری پانی کی قلت ہوگی اورکپاس کی بوائی کے لئے صوبوں کی ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی ممکن نہیں ہوسکے گی تاہم اس بارے میں قلت کے حجم کا اندازہ لگانے کے سلسلے میں ارسا نے چاروں صوبوں کے ماہرین پر مشتمل ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس اگلے 15 روز میں بلانے کا اصولی

فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تربیلا ڈیم سطح سمندر کے لحاظ سے اپنے ڈیڈ لیول 1380 فٹ سے صرف 5 فٹ اور منگلا ڈیم اپنے مقررہ ڈیڈ لیول 1040 فٹ سے صرف 15 فٹ اور رہ گیا ہے۔محکمہ انہار پنجاب کے حکام کا کہنا ہے ربیع کے لئے 19 فیصد کم فراہمی کو ٹیوب ویل اور بعض علاقوں میں بروقت بارشوں کے باعث پورا کیا گیا ہے۔آبی امور کے ماہر اور لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر عبدالباسط نے گفتگو میں

کہا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو بالائے طاق رکھنے کا شاخسانہ ملک کے صنعتی اور زرعی شعبے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی بجائے کالاباغ ڈیم بنانے کے لئے اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کرنا ہوگی بصورت دیگر پانی کی قلت کا ماتم قیامت تک ختم نہیں ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…