جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

’’فوجی عدالتیں آئین کی توہین ہیں انہیں فوری۔۔‘‘ مولانا فضل الرحمن فوجی عدالتوں کیخلاف برس پڑے

datetime 29  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور (آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری کو راضی کرنے کا ٹاسک نہیں دیا ہے۔
آصف علی زرداری سے ملاقات معمول کے مطابق کی ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام سول عدالتوں کی توہین اور اس پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔ جمعرات کے روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کروٹ لے رہی ہے۔
آصف زرداری کی وطن واپسی مثبت اقدام ہے ، آصف علی زرداری نے سیاست میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے آصف زرداری کو منانے کا ٹاسک نہیں دیا ہے اور سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات معمول کے مطابق تھی۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا معاملے پر سابق چیف سیکرٹری نے استعفیٰ کیوں دیا۔ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے افسران استعفیٰ دیتے ہیں۔ ہم فاٹا سے متعلق مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف فاٹا سے متعلق ہمارے تحفظات کا نوٹس لیں۔
فاٹا اصلاحی کمیٹی کا کام پیچیدہ نہ بنایا جائے اور فاٹا کے مستقبل کا اختیار وہاں کے عوام کو دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کی ترقی کے لئے ہمیشہ سنجیدہ رہے ہیں۔ سی پیک کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے سی پیک سے متعلق سنجیدہ تحفظات پر ہم نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ سی پیک کو متنازع نہ بنایا جائے۔ ہم سی پیک پر غیر سنجیدہ شور و غوغہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں توسیع کی باتیں ہو رہی ہیں اور دو سال کے لئے نافذ قانون کو مستقل کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ یہ امتیازی قانون ہے اس قانون کے ذریعے مخصوص فرقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہخے۔ف وجی عدالتوں کے قیام سول عدالتی نظام پر عدم اعتماد اور اسکی توہین کے مترادف ہے۔
اس قانون میں توسیع حکومت کی ناکامی تصور کی جائے گی۔فوجی عدالتوں کے قیام کے بجائے سول عدالتوں کے ججوں اور لاحق خطرات کے لیے اقدامات کئے جانے چاہئیں، ہمیں فاضل ججوں کو پاک فوج کی سکیورٹی دینی چاہیے۔ ایسی عدالتیں قائم کرنا جہاں ملزم خوف زدہ ہوکر پیش ہو یہ بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے50لاکھ افراد تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔
دیانتدار قیادت کے لئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سوا کوئی آپشن موجود نہیں اور ہماری جماعت کے کسی بھی رکن کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ سے مایوس لوگوں کی سیاست کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی، تحریک انصاف کے پی کے میں ناکام ہو چکی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…