’’ہمیں MNA’s اور MPA’s سے پوچھ گچھ کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں‘ پاکستان کی بڑی ایجنسی کا سپریم کورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

  جمعرات‬‮ 3 ‬‮نومبر‬‮ 2016  |  11:33

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ انہیں پاناما پیپر یا بہاماس لیکس سے جڑے کسی معاملے میں عوامی نمائندوں سے تفتیش کرنے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔تاہم، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس معاملے میں ہوشیار ہیں اور لیکس کی تحقیقات کے لیے تمام وسائل کا استعمال کررہے ہیں۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کی پٹیشن کی سماعت اور آف


شور کمپنیوں میں مبینہ سرمایہ کاری کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے قائم پانچ رکنی بینچ کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو اپنے جوابات اور کمیشن کے لیے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) داخل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔عدالت اس کیس کی سماعت جمعرات کو کرے گی۔ بدھ کے روز، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد وقار رانا نے ایف بی آر کی جانب سے جواب داخل کرایا جس میں بتایا گیا تھا کہ کافی کوششوں کے بات تفتیش کار 336 افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ان افراد کے نام پاناما پیپرز میں موجود تھے، میڈیا کی جانب سے دی گئی معلومات مزید تفتیش کے لیے ناکافی تھیں، اور منظرعام پر آنے والے پیپرز میں موجود نام نامکمل تھے یا پھر ان کے املا غلط تھے، اس کے علاوہ صرف 181 افراد کے پتے درج تھے اور دیگر اہم معلومات جیسے کہ پاسپورٹ، شناختی کارڈ نمبرز، تاریخ پیدائش جیسی اہم معلومات موجود نہیں تھیں۔ایف بی آر کی رپورٹ میں آگاہ کیا گیا کہ اب بھی 108 افراد کے پتے معلوم نہیں کیے جاسکے۔انہیں وجوہات کی بنا پر، ایف بی آر کے تفتیش کاروں نے معلومات اکھٹا کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے رابطے کیے ہیں اور اب وہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بعد سیاسی ڈائیلاگ کے نتائج اور سپریم کورٹ کی جانب سے ٹی او آرز کے تعین کا انتظار کررہے ہیں۔


موضوعات: