ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

’را‘ کے سابق سربراہ بھارتی حکومت پر ہی برس پڑے پاکستان اور حریت کے ساتھ مذاکرات کریں اور ۔۔۔

datetime 19  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ وادی میں حالات 2008۔10ء مختلف ہونے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ ایس دلت نے کہا ہے کہ حکومت کو پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے چاہیے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں نوجوانوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے را کے سابق چیف نے کہا کہ پتھراؤ کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ بلاجواز ہے انتہا پسندوں اور پتھراؤ کرنے والوں میں فرق کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا صحیح فیصلہ نہیں ہے اور اس کے کسی بھی صورت میں مثبت نتائج سامنے نہیں آسکتے سابق را چیف نے کہا کہ 80فیصد کشمیری مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی وکالت کررہی ہے انہوں نے حکومت پرزور دیا ہے کہ وادی میں حالات بہتر بنانے کیلئے بات چیت کا سلسلہ فوری طور پر شروع کیا جانا چاہیے تاکہ حالات کو معمول پر لایا جاسکے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر نے بھی پاکستان اور حریت کانفرنس کے ساتھ بات چیت کی وکالت کی ہے انہوں نے کہا کہ ناردرن کمانڈر نے بھی پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا برملا اظہار کیا کہ تمام سیاسی پارٹیوں ب شمول علیحدگی پسندوں کو وادی میں حالات معمول پر لانے کیلئے تعاون دینا چاہیے انہوں نے کہا کہ جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے بات چیت کا راستہ ہی اپنانا چاہیے۔
خفیہ ایجنسی کے سابق چیف نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باعث کشمیری پس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کیلئے ہمیشہ زبانی جمع خرچ سے کام لیا جاتا ہے عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا وزیراعظم مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ک مودی کے پاس سنہرا موقع ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں انہوں نے کہا کہ واجپائی کے وقت بھارتیہ جنتا پارٹی سیاسی طور پر کافی کمزور تھی تاہم بھارتی وزیراعظم کے پاس مکمل اختیارات ہیں وادی کشمیر میں نوجوانوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے بارے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایس دلت نے کہا کہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں اور پتھراؤ کرنے والوں کے درمیان فرق کرنا چاہیے جس طرح نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے وہ صحیح فیصلہ نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…