ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا ، ن لیگ کو بڑی کامیابی مل گئی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کے خلاف شیریں مزاری کی درخواست خارج کر دی۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کو ’’ٹریکٹر ٹرالی‘‘ کہنے کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی۔ درخواست گزار کے وکیل شعیب رزاق قانونی نکات پر دلائل نہ دے سکے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی کارروائی عدالت میں زیر بحث نہیں لائی جا سکتی جس پر شریں مزاری کے وکیل شعیب رزاق نے دلائل دیے کہ سپیکر کو بھی اس حوالے سے درخواست دی گئی تھی مگر انہوں نے خواجہ آصف کے خلا ف کوئی کارروائی نہیں کی تاہم عدالت انسانی حقوق کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کس طرح عدالت انسانی حقوق کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے۔ قانونی نکات پر دلائل نہ دینے پر عدالت نے شیریں مزاری کی درخواست خارج کر دی ہے۔یاد رہے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران مداخلت پر سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سپیکر صاحب اس ٹریکٹر ٹرالی کو چپ کرائیں‘‘، جس کے بعد شریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل پارلیمنٹ کے اجلا س میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی خواجہ آصف نے شیریں مزاری اورپی ٹی آئی شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےعمران خان سمیت تمام پی ٹی آئی قیادت کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے اور ساتھ ہی شیریں مزاری یہ کہہ کر پکار دیا کہ اس’’ ٹریکٹر ٹرالی کو چپ کرائو‘‘ جس پرپی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان کی جانب سے شدید ترین ردعمل سامنے آیا تھااور خواجہ آصف سے پارلیمنٹ کے فلور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا مگر حکومتی ارکارن کی جانب سے کسی بھی قسم کی معذرت کرنے سے انکار دیا تھا ۔

کچھ دن بعد خواجہ آصف نے پارلیمانی دبائومیں آکر تحریری طور پر اپنی تقریر پر معافی مانگی مگر شریں مزاری یا کسی بھی پارٹی رہنما کے متعلق اپنے کہے گئے الفاظ کے بارے میں اس معافی نامے میں ذکر نہ کیا جس پر شیریں مزاری کی جانب سےہائیکورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ جمع کروا دیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…