ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

میں نے ایٹم بم میں وہ ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جو آج تک کبھی کسی نے استعمال نہیں کی،عبد القدیر خان

datetime 29  ستمبر‬‮  2016 |

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک بھارت کشیدگی زور پکڑتی جا رہی ہے اور آج بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں جس پر پاکستان اور بھارت کی جانب سے مختلف شخصیات کے بیانات سامنے آرہے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی حالیہ خلاف ورزی کے بعد پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاہے کہ روس اور امریکہ کی طرح پاکستان اور بھارت ایٹمی ممالک ہیں ، کوئی جنگ نہیں ہوگی ، بھارتی بیانات صرف زبانی جمع خرچ ہیں ، بھارت کی بہت پرانی ایٹمی ٹیکنالوجی جسے دنیا ترک کرچکی ہے جبکہ پاکستان کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے ، پاکستان بھارت کو ایسا نقصان پہنچاسکتاہے کہ وہ برداشت نہیں کرپائے گا، پاکستان کا ایٹم بم غلطی سے چل سکتا ہے ، نہ کوئی چوری کرسکتاہے ، جو ایٹم بم بنانا جانتاہے ، وہ اس کی حفاظت بھی کرسکتاہے ۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالقدیر کا کہناتھاکہ ایٹمی ٹیکنالوجی میں ہمارا مقابلہ روس یا امریکہ سے نہیں تھا ہم نے اپنی حفاظت بھارت کے خلاف کرنی تھی جو صلاحیت ہم نے حاصل کرلی وہ انڈیا کیلئے کافی ہے۔ دوسرے ممالک سے ہمیں مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ، فرانس اور چین وغیرہ نے جو بھی کیا ہمارا اس سے کوئی مطلب نہیں اور نہ ہی مقابلہ ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لئے ایک ڈیٹرنس چاہئے تھا وہ ہم نے بنالیا اور اسی لئے ابھی تک ہندوستان سے جنگ نہیں ہوئی۔ باتیں تو البتہ سخت ہوتی ہیں لیکن انہیں بھی پتا ہے جو نقصان ہم پہنچاسکتے ہیں وہ برداشت نہیں کرسکتے ۔آرمی جانتی ہے کہ اس کی کس طرح حفاطت کی جائے اسے کوئی اٹھا نہیں سکتا۔ آرمی نے جو نظام قائم کیا ہے اس کی بہت احتیاط ہوتی ہے۔ نہ یہ خود چل سکتا ہے نہ چوری ہوسکتا ہے۔ ایک سوئی تو چوری نہیں ہوسکتی ایٹم بم کون اٹھاکرلے جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعبدالقدیر کاکہناتھاکہ فرق نہیں آپ اسے ہوائی جہاز سے پھینکیں یا میزائل سے پھینکیں۔ نقصان وہی ہوتا ہے کہ اسے صرف دشمن کی زمین پر پھینکا جائے۔ نقصان وہی ہوتا ہے جو اس سے ہونا ہوتا ہے ہم نے ایٹمی بم اس لئے بنایا کہ ہمین نقصان پہنچایا گیا تھا ایسٹ پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔ ہمارے خلاف جارحیت کی گئی تھی، اس کو بچانے کے لئے ضروری تھا کہ ہم اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھیں۔ ڈاکٹر قدیرنے بتایاکہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے جو طریقہ کار میں نے استعمال کیا تھا وہ آج تک استعمال نہیں کیا گیا تھا جو ٹیکنالوجی میں نے استعمال کی تھی اس کی کسی کو خبر بھی نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…