جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

میں نے ایٹم بم میں وہ ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جو آج تک کبھی کسی نے استعمال نہیں کی،عبد القدیر خان

datetime 29  ستمبر‬‮  2016 |

 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک بھارت کشیدگی زور پکڑتی جا رہی ہے اور آج بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے پر حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں جس پر پاکستان اور بھارت کی جانب سے مختلف شخصیات کے بیانات سامنے آرہے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی حالیہ خلاف ورزی کے بعد پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاہے کہ روس اور امریکہ کی طرح پاکستان اور بھارت ایٹمی ممالک ہیں ، کوئی جنگ نہیں ہوگی ، بھارتی بیانات صرف زبانی جمع خرچ ہیں ، بھارت کی بہت پرانی ایٹمی ٹیکنالوجی جسے دنیا ترک کرچکی ہے جبکہ پاکستان کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے ، پاکستان بھارت کو ایسا نقصان پہنچاسکتاہے کہ وہ برداشت نہیں کرپائے گا، پاکستان کا ایٹم بم غلطی سے چل سکتا ہے ، نہ کوئی چوری کرسکتاہے ، جو ایٹم بم بنانا جانتاہے ، وہ اس کی حفاظت بھی کرسکتاہے ۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالقدیر کا کہناتھاکہ ایٹمی ٹیکنالوجی میں ہمارا مقابلہ روس یا امریکہ سے نہیں تھا ہم نے اپنی حفاظت بھارت کے خلاف کرنی تھی جو صلاحیت ہم نے حاصل کرلی وہ انڈیا کیلئے کافی ہے۔ دوسرے ممالک سے ہمیں مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ، فرانس اور چین وغیرہ نے جو بھی کیا ہمارا اس سے کوئی مطلب نہیں اور نہ ہی مقابلہ ہے۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لئے ایک ڈیٹرنس چاہئے تھا وہ ہم نے بنالیا اور اسی لئے ابھی تک ہندوستان سے جنگ نہیں ہوئی۔ باتیں تو البتہ سخت ہوتی ہیں لیکن انہیں بھی پتا ہے جو نقصان ہم پہنچاسکتے ہیں وہ برداشت نہیں کرسکتے ۔آرمی جانتی ہے کہ اس کی کس طرح حفاطت کی جائے اسے کوئی اٹھا نہیں سکتا۔ آرمی نے جو نظام قائم کیا ہے اس کی بہت احتیاط ہوتی ہے۔ نہ یہ خود چل سکتا ہے نہ چوری ہوسکتا ہے۔ ایک سوئی تو چوری نہیں ہوسکتی ایٹم بم کون اٹھاکرلے جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرعبدالقدیر کاکہناتھاکہ فرق نہیں آپ اسے ہوائی جہاز سے پھینکیں یا میزائل سے پھینکیں۔ نقصان وہی ہوتا ہے کہ اسے صرف دشمن کی زمین پر پھینکا جائے۔ نقصان وہی ہوتا ہے جو اس سے ہونا ہوتا ہے ہم نے ایٹمی بم اس لئے بنایا کہ ہمین نقصان پہنچایا گیا تھا ایسٹ پاکستان ٹوٹ گیا تھا۔ ہمارے خلاف جارحیت کی گئی تھی، اس کو بچانے کے لئے ضروری تھا کہ ہم اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھیں۔ ڈاکٹر قدیرنے بتایاکہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے جو طریقہ کار میں نے استعمال کیا تھا وہ آج تک استعمال نہیں کیا گیا تھا جو ٹیکنالوجی میں نے استعمال کی تھی اس کی کسی کو خبر بھی نہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…